کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 288
لہٰذا ان اعراب کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ یہ لوگ منافقین نہ تھے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے باوجود ایمان والے نہ تھے کہ ان کے پاس ایمان کا ایک جزء تھا جس نے ان کو عالم کفر سے نکال کر دائرہ اسلام میں داخل کروایا تھا۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’إن الإسلام الکلمۃ و الإیمان العمل۔‘‘[1] ’’بلاشبہ اسلام کلمہ ہے اور ایمان عمل ہے۔‘‘ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فقیل لہم: قولوا أسلمنا، لأن الإسلام قول، و الإیمان قول و عمل۔‘‘[2] ’’ان بدویوں سے کہا گیا تم کہو ہم اسلام لائے اس لیے کہ اسالم قول کا نام ہے اور ایمان قول و عمل کا نام ہے۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ بسا اوقات اسلام کے ایک جزء کو اختیار کرنے سے بندہ دائرہ اسلام میں آ جاتا ہے اور وہ جزء شہادتین کا اقرار ہے اور باقی شعبوں پر عمل نہ کرنے سے اس کے اسلام میں نقص واقع ہو جاتا ہے بسا اوقات بندے میں اسلام کا ایک جزء ہوتا ہے باقی اجزاء کفر کے بھی ہوتے ہیں تو کفر و اسلام ایک آدمی میں جمع ہو سکتے ہیں اور یہ فیصلہ بعد میں کیا جا سکتا ہے کہ وہ مسلم ہے یا کافر اور غور کیا جائے گا کہ یہ کفر کی انواع میں سے کون سا کفر ہے۔ اکبر ہے یا اصغر ہے۔ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’فقد یجتمع في الإنسان إیمان و نفاق، و بعض شعب الإیمان و شعبۃ من شعب الکفر، کما في الصحیحین عن النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أنہ قال: ((أربع من کن فیہ کان منافقا خالصا و من کانت فیہ خصلۃ مہن کانت فیہ خصلۃ من النفاق حتی یدعہا: إذا حدث کذب و إذا ائتمن خان و إذا عاہد غدر و إذا خاصم فجر۔)) و في الصحیح عنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم أنہ قال: ((من مات و لم یغز و لم یحدث نفسہ بالغزو مات علی شعبۃ نفاق۔))‘‘[3] ’’کبھی ایک انسان میں ایمان اور نفاق جمع ہو جاتے ہیں اور کچھ ایمان کے شعبے اور کفر کے شعبوں [1] ) تفسیر الطبري: 21/389۔ [2] ) تفسیر الطبري: 21/389۔ [3] ) مجموع الفتاوی لإبن تیمیۃ: 7/520۔