کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 285
جو جاہل لوگ بغرض علاج پہنتے ہیں اور پہناتے ہیں، اس میں وہ تعویذات بھی آتے ہیں جو کفریہ، شرکیہ اور غیر شرعی تحریروں پر مشتمل ہوتے ہوں لیکن ایسے تعویذات جو آیات قرآنیہ اور مسنون دعائوں پر مشتمل ہوں انہیں ’’تمیمہ‘‘ کہنا قرآن و سنت کی ہتک ہے اس پاکیزہ کلام کو یہ برا نام دینا ناروا غلو ہے اس میں شبہ نہیں کہ قرآن کریم یا دعائیں لکھ کر لٹکانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی طرح ثابت نہیں حالانکہ اس دور میں کاغذ، قلم، سیاہی اور کاتب سبھی مہیا تھے اور مریض بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے تھے مگر آپ نے کبھی کسی کو یہ طریقہ علاج ارشاد نہیں فرمایا، آپ نے انہیں دم کیا یا مختلف اذکار بتائے یا کوئی مادی علاج تجویز فرما دیا۔ آیات یا دعائوں کو بطور تعویذ لٹکانا بعد کی بات اور اختلافی مسئلہ ہے (ابن قیم: الطب النبوی، الرقیہ) علمائے سنت کا ایک گروہ اس کا قائل و فاعل رہا ہے اور دوسرا گروہ انکاری علمائے راسخین کی اور ہماری ترجیح یہی ہے کہ اس سے احتراز کیا جائے مگر کلام اللہ یا مسنون دعائوں کو ’’تمیمہ‘‘ جیسا برا نام دینا بہت بڑا ظلم ہے۔[1] ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ شرکیہ و کفریہ طریقوں سے لوگوں کو جو فائدہ ہوتا ہے وہ درحقیقت شیطانی اثر ہوتا ہے۔[2] یہ بھی معلوم ہو گیا بسا اوقات ایک شخص میں توحید اور شرک، ایمان اور کفر بھی جمع ہو سکتے ہیں جیسے زینب جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ان کے گلے میں انہوں نے دھاگا دیکھ کر اسے شیطانی عمل اور شرک قرار دیا ہے حالانکہ وہ ایک مومنہ عورت تھیں لہٰذا ہمیں کسی شخص کو کفر و شرک کرتے دیکھ کر اسے مشرک ہونے کا فی الفور فتویٰ جاری نہیں کرنا چاہیے، ہاں اس فعل یا قول کو کفر شرک ضرور کہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو کافرہ مشرکہ قرار نہیں دیا بلکہ ان کے فعل کو شرک کہا۔ علامہ ابو الحسن محمد بن عدبالہادی السندی اس حدیث پر لکھتے ہیں: ’’شرک ’’أی من أفعال المشرکین أو لأنہ قد یفضي إلی الشرک إذا إعتقد ان لہ تاثیرا حقیقۃ و قیل: المراد: الشرک الخفي تبرک التوکل و الاعتماد علی اللّٰہ سبحانہ و تعالی۔‘‘[3] ’’یعنی (دم جھاڑا، منکے، محبت کے تعویذ) یہ مشرکین کے افعال میں سے ہیں یا یہ شرک کی طرف لے جاتے ہیں جب ان کی حقیقی تاثیر کا عقیدہ بنا لیا جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد [1] ) سنن ابی داود و فوائد فضیلۃ الشیخ أبو عمار عمر فاروق سعیدی حفظہ اللّٰہ: 4/47، ط: دار السلام۔ [2] ) ایضا: 4/47۔ [3] ) حاشیۃ السندي علی مسند الإمام أحمد بن حنبل: 1/605، ط: دار المأثور للنشر و التوزیع بالریاض۔