کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 283
اور پہچانتا ہے کہ اللہ اس کا رب خالق اور رازق ہے حالانکہ وہ اس کے ساتھ شرک بھی کرتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کیسے ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ’’کیا کیا تم نے دیکھا کہ جن کی تم عبادت کرتے رہے تم اور تمہارے پہلے باپ دادا سو بلاشبہ وہ میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے۔‘‘ یقینا انہوں نے پہچانا کہ وہ رب العالمین کی عبادت کرتے ہیں باوجو اس کے کہ وہ اس کے علاوہ کی بھی عبادت کرتے ہیں فرمایا: نہیں ہے کوئی بھی شخص جو اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے مگر وہ اس پر ایمان بھی لاتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے عرب تلبیہ کہتے ہوئے بولتے ہیں۔ ’’اے ہمارے اللہ ہم بار بار حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ شریک جس کا تو مالک ہے اور وہ مالک نہیں ہے۔‘‘ مشرکین کا یہ تلبیہ صحیح مسلم (1185) میں موجود ہے تفصیل کے لیے راقم کی کتاب ’’کلمہ گو مشرک‘‘ ملاحظہ کریں۔ امام ابن کثیر نے مجاہد، عطائ، عکرمہ، شعبی، قتادہ، ضحاک اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم کا یہی قول اس آیت کی تفسیر کے بارے نقل کیا ہے۔[1] حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ایک مریض کے پاس آئے تو اس کے بازو میں دھاگا دیکھا تو اسے کاٹ دیا پھر فرمایا: (وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ )(یوسف: 106) [2] اس مقام پر ابن کثیر میں مزید کئی ایک احادیث بھی درج کی گئی ہیں جن سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ایمان و کفر، توحید و شرک ایک شخص میں جمع ہو سکتے ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: ’’عبداللہ بن مسعود جب کسی ضرورت کے لیے گھر آئے دروازے پر پہنچ کر کھانستے تھے اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ اچانک وہ کہیں اس کام پر نہ آ جائیں جو انہیں پسند نہیں ہوتا۔ کہتی ہیں: ایک دن وہ آئے اور کھانسے اور میرے پاس ایک بڑھیا تھی جو مجھے بخار کے لیے دم کر رہی تھی، میں نے اسے چارپائی کے نیچے کر دیا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئے میری ایک جانب بیٹھ گئے تو انہوں نے میری گردن میں ایک دھاگا دیکھا اور کہا یہ دھاگا کیا ہے؟ کہنے لگی: یہ دھاگا جس میں میرے لیے دم کیا گیا ہے۔ تو انہوں نے اسے پکڑا اور کاٹ دیا پھر فرمایا: ’’إن آل عبداللّٰہ لأغنیاء عن الشرک۔‘‘ [1] ) تفسیر ابن کثیر: 3/609 بتحقیق عبدالرزاق المہدی۔ [2] ) تفسیر إبن أبي حاتم: 7/2208، رقم: 12040۔ تفسیر إبن کثیر: 3/610۔ بتحقیق عبدالرزاق المہدي۔