کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 282
’’فذلک إیمانہم و ہم یعبدون غیرہ۔‘‘ یہ ان کا ایمان ہے حالانکہ اس کے سوا کی عبادت کرتے ہیں۔‘‘ عکرمہ اللہ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں: ’’تسألہم: مَن خلقہم؟ و من خلق السماوات و الأرض؟ فیقولون: اللّٰہ، فذلک إیمانہم باللّٰہ، و ہم یعبدون غیرہ۔‘‘[1] ’’تم ان سے سوال کرو کہ انہیں کس نے پیدا کیا اور آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ کہیں گے: اللہ نے۔ یہ ان کا اللہ پر ایمان ہے حالانکہ وہ اللہ کے سوا کی عبادت بھی کرتے ہیں۔‘‘ قتادہ بن دعامہ السدوسی فرماتے ہیں: ’’في إیمانہم ہذا، إنک لست تلقی أحدًا منہم إلا أنبأک أن اللّٰہ ربہ، و ہو الذي خلقہ و رزقہ، و ہو مشرک في عبادتہ۔‘‘[2] ’’ان کے ایمان میں یہ ہے۔ یقینا تو ان میں سے کسی ایک سے بھی ملاقات نہیں کرے گا مگر وہ تجھے خبر دے گا کہ اللہ اس کا رب ہے اور اسی نے اسے پیدا کیا اور رزق دیا ہے حالانکہ وہ اس کی عبادت میں شرک کرنے والا ہے۔‘‘ عبداللہ بن وہب فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن یزید کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے اس آیت کے بارے میں کہا: ’’لیس أحد یعبد مع اللّٰہ غیرہ إلا و ہو مؤمن باللّٰہ، و یعرف أن اللّٰہ ربہ، و أن اللّٰہ خالقہ و رازقہ، و ہو یشرک بہ۔ ألا تری کیف قال إبراہیم:( قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ (75) أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمُ الْأَقْدَمُونَ (76) فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ )(الشعرائ: 75-77) قد عرف أنہم یعبودون رب العالمین مع ما یعبدون قال: فلیس أحد یشرک بہ إلا و ہو مؤمن بہ۔ ألا تری کیف کانت العرب تلبِّي تقول: ’’لبیک اللّٰہُمَّ لبیک، لبیک لا شریک لک، إلا شریک ہو لک، تملکہ و ما ملک؟‘‘ المشرکون کانوا یقولون ہذا۔‘‘[3] ’’نہیں ہے کوئی بھی شخص جو اللہ کے ساتھ غیر کی عبادت کرتا ہے مگر وہ اللہ پر ایمان لانے والا ہے [1] ) تفسیر الطبري: 13/373۔ [2] ) تفسیر الطبري: 13/375۔ [3] ) تفسیر الطبري: 13/376۔ تفسیر إبن أبي حاتم: 7/2208، رقم: 12038۔