کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 281
ضابطہ نمبر 12 دو چیزوں کا بندہ میں جمع ہونا بعض اوقات کسی بندہ میں کفر اور ایمان جمع ہو جاتے ہیں، بعض اوقات شرک اور توحید جمع ہو جاتے ہیں اور اسی طرح تقویٰ اور فجور و فسوق، نفاق اور ایمان بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ عظیم ترین اصول ہے جس میں خوارج، معتزلہ اور قدریہ وغیرہم نے اہل سنت و جماعت کی مخالفت کی ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر اہل کبائر کا جہنم سے نکلنا اور عدم خلود کا انحصار ہے اور اس پر قرآن و سنت کے واضح دلائل ہیں۔ اس اصول کی بنیاد آیت قرآنی ہے: (وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ )(یوسف: 106) ’’اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، مگر اس حال میں کہ وہ شریک بنانے والے ہوتے ہیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کے بارے میں بتایا باوجود اس کے وہ شرک کے مرتکب ہوئے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’من إیمانہم إذا قیل لہم: من خلق السماء و من خلق الأرض و من الجبال؟ قالوا: اللّٰہ، و ہم مشرکون۔))[1] ’’ان کے ایمان میں سے ہے کہ جب انہیں کہا جائے آسمان کس نے پیدا کیا؟ اور زمین کس نے پیدا کی؟ اور پہاڑ کس نے پیدا کیے؟ کہیں گے: اللہ نے حالانکہ وہ شرک کرنے والے ہیں۔‘‘ ابن ابی حاتم وغیرہ میں اس روایت کے الفاظ یہ بھی ہیں: [1] ) تفسیر إبن أبي حاتم: 7/2207، رقم: 12034۔ تفسیر الطبري: 13/372-373۔ بتحقیق دکتور عبداللہ عبدالمحسن الترکی۔ تفسیر الدرر المنثور: 4/40، ط: قدیم: 8/348۔ بتحقیق دکتور عبداللہ عبدالمحسن الترکی۔ اسی سیوطی نے ابو الشیخ کی طرف بھی منسوب کیا ہے۔