کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 277
ضابطہ نمبر 11 ہر کفر کا مرتکب کافر نہیں ہوتا جیسے کوئی بندہ ایمان کے کسی شعبے کو قائم کرنے سے مومن یا مسلمان نہیں بن جاتا اسی طرح کوئی مومن کفر کے کسی شعبہ کا مرتکب ہونے کے بعد کافر نہیں بن جاتا۔ یہ ایک زریں اصول ہے کہ جیسے کوئی انسان کسی علم کے بعض اجزاء پر عبور حاصل کرنے کے بعد اس موضوع پر اتھارٹی نہیں بن جاتا اور نہ تو کوئی انسان طب کی جنرل نالج کے حصول کے بعد ڈاکٹر بن جاتا ہے۔ ان مثالوں سے ایک بات واضح ہوئی کہ جب تک کوئی انسان ایمان کے تمام تقاضے پورے نہیں کرتا ہم اسے دائرہ اسلام میں داخل نہیں سمجھتے تو اسی طرح جب تک کفر کی تمام شرائط اور ضوابط کسی مرتکب پر منطبق نہ ہوں تو ہم اس پر تکفیر کا حکم نہیں لگا سکتے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وہا ہنا أصل آخر و ہو أنہ لا یلزم من قیام شعبۃ من شعب الإیمان بالعبد أن یسمی مؤمنا و إن کان ما قام بہ إیمانا و لا من قیام شعبۃ من شعب الکفر بہ أن یسمی کافرا و إن کان ما قام بہ کفرا کما أنہ لا یلزم من قیام جزء من أجزاء العلم بہ أن یسمی عالما و لا من معرفۃ بعض مسائل الفقہ و الطب أن یسمی فقہیا و لا طبیبا و لا یمنع ذلک أن تسمی شعبۃ الإیمان إیمانا و شعبۃ النفاق نفاقا و شعبۃ الکفر کفرا و قد یطلق علیہ الفعل کقولہ فمن ترکہا فقد کفر۔‘‘[1] ’’اور یہاں ایک اور اصل ہے اور وہ یہ ہے کہ ایمان کے شعبوں میں سے کسی ایک شعبہ کے قیام سے بندے کا مومن ہونا لازم نہیں آتا اگرچہ وہ جس شعبہ کے ساتھ قائم ہے وہ ایمان ہے اور نہ ہی کفر کے شعبوں میں کسی شعبے کے قیام سے بندے کا کافر ہونا لازم آتا ہے اگرچہ جس شعبے کے ساتھ وہ قائم ہے وہ کفر ہے جیسا کہ علم کے اجزاء میں سے کسی جزء کے قیام سے عالم ہونا لازم نہیں آتا اور نہ ہی بعض فقہی اور طبی مسائل کی معرفت سے بندے کو فقیہ اور طبیب کہا جاتا ہے اور [1] ) کتاب الصلاۃ و حکم تارکہا، ص: 58-59۔