کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 273
ان احادیث صحیحہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی معاصی اور نافرمانیوں پر کفر کا اطلاق کیا ہے، اس لیے کہ یہ کفر کے شعبے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں کئی طاعات پر ایمان کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((الحیاء من الإیمان۔))[1] ’’حیاء ایمان میں سے ہے۔‘‘ ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ((إن البذاذۃ من الإیمان۔))[2] ’’یقینا سادگی ایمان میں سے ہے۔‘‘ اور ایمان کے شعبوں کے متعلق یہ حدیث مشہور و معروف ہے: ((الإیمان بضع و سبعون أفضلہا قول لا إلٰہ إلا اللّٰہ و أدناہا إماطۃ العظم عن الطریق و الحیاء شعبۃ من الإیمان۔))[3] ’’ایمان کے ستر سے زائد … اور ایک روایت میں ساٹھ سے زیادہ …شعبے ہیں ان میں سب سے زیادہ افضل لا الہ الا اللہ کہنا اور سب سے کمتر راستے سے ہڈی کو ہٹانا اور حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے۔‘‘ یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایمان کے بے شمار شعبے ہیں اور ان کے بالمقابل کفر کے بھی بے شمار شعبے اور شاخیں ہیں اور یہ سب ایک درجے پر نہیں ہیں۔ لہٰذا کسی شخص پر حکم لگانے سے قبل اچھی طرح دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کفر کس درجے کا ہے، اسلام سے خارج کرنے والا کفر ہے یا نہیں۔ تمام شرائط و ضوابط اور موانع پرکھنے کے بعد مفتی کسی کے خارج از اسلام ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ [1] ) صحیح البخاري: 24۔ صحیح مسلم: 36۔ [2] ) سنن ابي داود: 4161۔ سنن إبن ماجہ: 4118۔ مسند احمد: 24009/58۔ المستدرک: 1/9۔ شعب الإیمان للبیہقي: 8136۔ مسند الشہاب للقضاعي: 157۔ کتاب الآداب للبیہقي: 240۔ الکنی لأبي احمد الحاکم:2/13۔ تہذیب الکمال للمزي: 33/51۔ في ترجمۃ أبي امامۃ۔ [3] ) صحیح البخاري: 9۔ صحیح مسلم: 35/58۔ ترمذي: 2801۔ سنن أبي داود: 4676۔ مسند أحمد: 8926، 9361۔ إبن ماجہ: 57۔ صحیح إبن حبان: 166