کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 272
ہونے سے ایمان زائل ہو جاتا ہے اور اسی طرح کفر کے قولی اور فعلی شعبے ہیں جیسے اختیار طور پر کلمہ کفر کہنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے اور یہ کفر کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے اسی طرح اس کے فعلی شعبوں میں سے کسی شعبے کو اپنانے سے بھی کافر ہو جاتا ہے۔ جیسے بت کو سجدہ کرنا، قرآن حکیم کی اہانت کرنا تو یہ اصل ہے۔‘‘ علامہ جمال الدین القاسمی رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں قاضی ابوبکر ابن العربی کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’إن الطاعات کما سمی إیمانا کذلک المعاصي تسمی کفرا لکن حیث یطلق علیہا الکفر لا یراد علیہ الکفر المخرج عن الملۃ۔‘‘[1] ’’جیسے طاعات کو ایمان کا نام دیا جاتا ہے اسی طرح معاصی کو کفر کا نام دیا جاتا ہے لیکن جہاں معصیتوں پر کفر کا اطلاق کیا جاتا ہے اس سے ایسا کفر مراد نہیں لیا جاتا جو ملت اسلامیہ سے خارج کرنے والا ہو۔‘‘ اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے کو کافر، فاسق اور ظالم قرار دیا گیا، اسی طرح احادیث و سنن میں کتنی معصیتوں اور نافرمانیوں پر کفر کا اطلاق کیا گیا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((سباب المسلم فسوق و قتالہ کفر۔))[2] ’’مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کے ساتھ لڑنا کفر ہے۔‘‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لا ترغبوا عن آباء کم فمن رغب عن أبیہ فہو کفر۔))[3] ’’اپنے باپ دادا سے بے رغبتی نہ کرو جس نے اپنے باپ سے بے رغبتی کی تو یہ کفر ہے۔‘‘ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لا ترجعوا بعدی کفارا یضرب بعضکم رقاب بعض۔))[4] ’’میرے بعد کافر نہ ہو جانا بعض تمہارا بعض کی گردنیں مارنے لگ جائے۔‘‘ [1] ) تفسیر القاسمي المسمی محاسن التاویل: 3/161، ط: دار الکتب العلمیۃ۔ [2] ) صحیح البخاري: 48۔ صحیح مسلم: 64۔ [3] ) صحیح البخاري: 6768۔ صحیح مسلم: 62۔ [4] ) صحیح البخاري: 6166۔ صحیح مسلم: 66۔