کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 270
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’و لما کان الإیمان أصلا لہ شعب متعددۃ و کل شعبۃ منہا تسمی إیمانا فالصلاۃ من الإیمان و کذلک الزکاۃ و الحج و الصیام و الأعمال الباطنۃ کالحیاء و التوکل و الخشیۃ من اللّٰہ و الإنابۃ إلیہ حتی تنتہي ہذہ الشعب إلی إماطۃ الأذی عن الطریق فإنہ شعبۃ من شعب الإیمان۔‘‘[1] ’’اور جب ایمان حقیقی ہو تو اس کی کئی شاخیں ہیں اور اس میں سے ہر شاخ کو ایمان کا نام دیا جاتا ہے تو نماز ایمان میں سے ہے اور اسی طرح زکاۃ، حج اور صیام بھی ایمان میں سے ہیں اور باطنی اعمال جیسے حیائ، توکل، خشیت الٰہی، انابت الی اللہ۔ یہاں تک کہ یہ شاخیں راستے سے اذیت و گندگی دُور کرنے تک پہنچ جاتی ہیں اس لیے کہ یہ بھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔‘‘ پھر اس کے بعد لکھتے ہیں: ’’و ہذہ الشعب منہا ما بزول الإیمان بزوالہا کشعبۃ الشہادۃ و منہا ما لا یزول بزوالہا کترک إماطۃ الأذی عن الطریق و بینہما شعب متفاوتۃ تفاوتا عظیما منہا ما یلحق بشعبۃ الشہادۃ و یکون إلیہا أقرب و منہا ما یلحق بشعبۃ إماطۃ الأذی و یکون إلیہا أقرب۔‘‘[2] ’’اور ان شاخوں میں سے بعض وہ ہیں جن کے زائل وہنے سے ایمان زائل ہو جاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت و گواہی کا شعبہ اور بعض شعبے وہ ہیں جن کے زائل ہونے سے ایمان زائل نہیں ہوتا جیسے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا اور ان کے درمیان کئی شعبے ہیں جن کے درمیان بہت زیادہ اختلاف و کمی بیشی ہے۔ ان میں سے بعض شہادت والے شعبے سے مل جاتے ہیں اور اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو راستے سے گندگی ہٹانے والے شعبے سے ملتے ہیں اور اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔‘‘ پھر اس کے کفر کے شعبے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: [1] ) کتاب الصلاۃ و حکم تارکہا، ص: 49-50۔ [2] ) کتاب الصلاۃ و حکم تارکہا، ص: 50۔