کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 261
ضابطہ نمبر9 مختلف شخصیات کے احوال کو مدنظر رکھنا تکفیری مسائل میں حسب احوال شخصیات اختلاف واقع ہوتا ہے لہٰذا یہ مخطیٔ، مبتدع، جاہل، گمراہ کافر نہ ہو گا اور نہ ہی فاسق بلکہ نہ ہی گناہ گار ہو گا۔ اس اصول کو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں بیان فرمایا ہے کہ کسی ایک مسئلہ میں بھی ممکن ہے کہ مختلف اشخاص میں صورت حال مختلف ہو یعنی ضروری نہیں کہ ایک خطا کے مرتکب کو اگر ہم نے تکفیر کا مستحق ٹھہرایا ہے تو اس خطا کا ہر مرتکب تکفیر کا مستحق ہو گا اور وہ ضابطہ بعینہٖ منطبق ہو جائے گا بلکہ ہر شخص کے احوال کے مطابق فیصلہ اور حکم دیا جائے گا۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فالتکفیر یختلف بحسب اختلاف حال الشخص فلیس کل مخطیء و لا مبتدع و لا جاہل و لا ضال یکون کافرا بل و لا فاسقا بل و لا عاصیا لاسیما في مثل ’’مسألۃ القرآن‘‘ و قد غلط فیہا خلق من أئمۃ الطوائف المعروفین عند الناس بالعلم و الدین و غالبہم یقصد وجہا من الحق فیتبعہ و یعزب عنہ وجہ آخر لا یحققہ فیبق عارفا ببعض الحق جاہلا بعضہ بل منکرا لہ۔‘‘[1] ’’تکفیر شخصیات کے احوال کے اختلاف کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ ہر خطا کار، مبتدع، جاہل اور گمراہ کافر نہیں ہوتا بلکہ عاصی و نافرمان بھی نہیں خصوصاً ’’خلق قرآن‘‘ کے مسئلہ میں بہت سارے گروہوں کے ائمہ جو لوگوں کے ہاں علم اور دین میں مصروف تھے انہوں نے اس میں غلطی کی ہے اور ان کی اکثریت حق کا مقصد رکھتی تھی کہ وہ اس کی پیروی کریں اور ان سے ایک دوسری صورت مخفی رہ جاتی تھی جس کی وہ تحقیق نہ کر سکے تو وہ حق کے کچھ حصے کو پہچاننے والا اور بعض سے جاہل ہوتا بلکہ اس کا منکر ہوتا ہے۔‘‘ اور یہ بات بھی واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو فطرت پر پیدا کیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: [1] ) مجموع الفتاوی لإبن تیمیۃ: 12/180۔