کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 256
پر خطا کر کے اپنی بیوی کو طلاق دے ڈالے یا غیر ارادی طور پر خطا کا مرتب ہو کر غلام آزاد کر دے ان تمام صورتوں پر کوئی حکم مرتب نہیں ہوتا اس لیے کہ انسان نے اس کا قصد و ارادہ نہیں کیا یہ لغو و بے کار قسم کی طرح ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’تمہاری لغو قسموں پر اللہ تمہارا مواخذہ نہیں کرے گا اور لیکن وہ تمہارا مواخذہ اس پر کرے گا جو تمہارے دلوں نے کیا اور اللہ بے حد بخشنے والا کمال بردباری والا ہے۔‘‘ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إن اللّٰہ وضع عن أمتي الخطأ و النسیان و ما استکرہوا علیہ۔)) ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، نسیان اور جس پر انہیں مجبور کر دیا گیا، ساقط کر دیا ہے۔‘‘[1] اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: (وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ مَا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا) (الاحزاب: 5) ’’اور تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جس میں تم نے خطا کی اور لیکن جو تمھارے دلوں نے ارادے سے کیا اور اللہ ہمیشہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ امام ابن کثیر رحمہ اللہ راقم ہیں: ’’إذا نسبتم بعضہم إلی غیر أبیہ في الحقیقۃ خطأ، بعد الإجتہاد و إستفراغ الوسع؛ فإن اللّٰہ قد وضع الحرج في الخطأ و رفع إثمہ، کما أرشد إلیہ في قولہ آمرًا عبادہ أن یقولوا: (رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا) (البقرۃ: 286) [2] ’’جب تم اجتہاد اور وسعت صرف کرنے کے بعد خطا کر کے بعض کو ان کے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کر دو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے خطا میں حرج کو ساقط کر دیا ہے اور اس کے گناہ کو [1] ) سنن إبن ماجہ، کتاب الطلاق المکرہ و الناسي: 2045۔ السنن الکبری للبیہقي: 7/356-357۔ سنن الدارقطني: 4/170-171۔ صحیح إبن حبان: 1498، موارد۔ المستدرک للحاکم: 2/198۔ التلخیص الحبیر: 450۔ اس حدیث کو ابن حبان، حاکم اور ذہبی نے صحیح کہا ہے امام نووی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ روضۃ الطالبین، کتاب الطلاق: 6/168۔ [2] ) تفسیر ابن کثیر: 5/145، ط: دار الکتاب العربي۔