کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 255
’’عدم المؤاخذۃ في الخطاء غیر المتعمد مثل ہذا في حال دہشتہ و ذہولہ۔‘‘ ’’اس حدیث کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ایسی خطا غیر ارادی طور پر اس طرح دہشت اور ذہول کی صورت میں ہو جائے اس پر مواخذہ اور پکڑ نہیں ہے۔‘‘ ’’نزہۃ المتقین‘‘ شرح ریاض الصالحین (1/32) پر اس کے مولفین لکھتے ہیں: ’’أفاد الحدیث عدم المؤاخذۃ فی الخطاء غیر المعتمد۔‘‘[1] ’’غیر ارادی خطاء میں مواخذہ نہیں ہے۔‘‘ شیخ محمد بن صالح العثیمین لکھتے ہیں: ’’و فیہ: دلیل علی أن الإنسان إذا أخطأ في قول من الأقوال و لو کان کفرا سبق لسانہ إلیہ؛ فإنہ لا یؤاخذ بہ فہذا الرجل قال کلمۃ الکفر؛ لأن قول الإنسان لربہ: أنت عبدي و أنا ربک ہذا کفر لا شک فیہ، لکن لما ہذا صدر عن خطأ من شدۃ الفرح، صار غیر مؤاخذ بہ، و کذلک غیرہا من الکلمات؛ لو سب أحدا علی وجہ الخطأ بدون قصد، أو طلق زوجتہ علی وجہ الخطأ بدون القصد، أو أعتق عبدہ علی وجہ الخطأ بدون قصد، فکل ہذا لا یترتب علیہ شيئ؛ لأن الإنسان لم یقصدہ، فہو کاللغو في الیمین، و قد قال اللّٰہ تعالی: (لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ) (البقرۃ: 225) [2] ’’اس حدیث میں دلیل ہے کہ انسان جب سبقت لسانی کرتے ہوئے کسی قول میں خطا کر جائے اگرچہ وہ قول کفر ہو، تو اس پر اس کا مواخذہ نہیں ہو گا۔ اس آدمی نے کلمہ کفر کہا اس لیے کہ انسان کا اپنے رب کے بارے میں کہنا: تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں یہ بلا شک کفر ہے لیکن شدت فرح کے باعث جب خطاً اس سے صادر ہوا تو اس کا مواخذہ نہیں ہوا اسی طرح دیگر کلمات کا بھی یہی حکم ہے۔ اگر غیر ارادی طور پر خطا کرتے ہوئے کسی کو گالی دے دے، یا غیر ارادی طور [1] ) بہجۃ الناظرین شرح ریاض الصالحین: 1/54، ط: دار إبن الجوزي۔ [2] ) شرح ریاض الصالحین: 1/55، ط: دار الکتب العلمیۃ۔