کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 253
ہم بھول جائیں یا خطا کر جائیں۔‘‘ ((قال: قد فعلت۔)) ’’اللہ نے فرمایا: یقینا میں نے کر دیا۔‘‘ (رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ) (البقرۃ: 286) ’’اے ہمارے رب! اور ہم پر کوئی بھاری بوجھ نہ ڈال، جیسے تو نے اسے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے۔‘‘ ((قال: قد فعلت۔))’’اللہ نے فرمایا: یقینا میں نے ایسے کر دیا۔‘‘ (وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا )(البقرۃ: 286) ’’اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا مالک ہے۔‘‘ ((قال: قد فعلت۔)) ’’اللہ نے فرمایا: یقینا میں نے ایسے کر دیا۔‘‘[1] مجاہد کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو میں نے کہا: اے ابا عباس! میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا انہوں نے یہ آیت پڑھی پھر رو پڑے، فرمایا: کون سی آیت؟ میں نے کہا: (وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ ) (البقرۃ: 284) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بلاشبہ جس وقت یہ آیت نازل کی گئی اس نے اصحاب رسول کو بہت زیادہ غمزدہ کر دیا اور شدید غصہ دلایا اور وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم ہلاک ہو گئے۔ یقینا ہم اپنے بولنے اور عمل کرنے کی وجہ سے پکڑے جائیں گے بہرحال ہمارے دل ہمارے ہاتھوں میں نہیں ہیں۔ تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((قولوا: سمعنا و أطعنا)) ’’تم کہو سنا اور مان لیا۔‘‘ صحابہ کرام نے کہا: سمعنا و أطعنا۔ [1] ) صحیح مسلم، کتاب الإیمان: 200/126۔ مسند أبي عوانۃ: 219، 220، 1/74-75۔ مسند أحمد: 2070، 3/497۔ ترمذي: 2992۔ تفسیر الطبري: 3/78، رقم: 6528، ط: دار الحدیث القاہرۃ : 6531۔ السنن الکبری للنسائي: 11059۔ المستدرک للحاکم: 2/286۔ الأسماء و الصفات للبیہقي، ص: 210-211۔ اسباب النزول للواحدي، ص: 60۔ الإستیعاب في بیان الأسباب: 1/223۔