کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 25
سے خارج ہے۔ بنا بریں مسلمانوں کے موجودہ حکمران، اگرچہ بہت بڑے مجرم ہیں کہ اختیارات سے بہرہ ور ہونے کے باوجود، وہ اسلام کے نفاذ کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہیں، بلکہ قوم اور ملک کو اسلام سے دور کر رہے ہیں تاہم ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، ہم انہیں واجب القتل وغیرہ قرار نہیں دے سکتے۔ ان کے غیر اسلامی اقدامات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا، ان کی اصلاح کی کوششیں کرنا اور ان کو راہ راست کی تلقین کرنا، یہ الگ مسئلہ ہے اس کا اہتمام اپنی اپنی طاقت کے مطابق کر ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ جس طرح ایک مسلمان بھائی، دوسرے مسلمان بھائی کی خیرخواہی کے جذبے سے اصلاح کی کوشش کرتا ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تقاضا ہے، حکمران طبقہ بھی ہماری ان اصلاحی و تبلیغی مساعی کا ہدف ہونا چاہیے۔ باقی ہدایت کے راستے پر چلا دینا، یہ اللہ کا اختیار ہے۔ راقم نے ’’ریاض الصالحین‘‘ میں حکمرانوں سے متعلق احادیث کی شرح و توضیح میں اس نکتے کی وضاحت کی ہے۔ طوالت سے بچتے ہوئے چند احادیث کے فوائد ملاحظہ فرمائیں: ایک حدیث کے فوائد میں تیسرا فائدہ حکمرانوں کی کوتاہیوں کا حل بھی تجویز فرما دیا اور وہ ان کے خلاف بغاوت اور احتجاجی مظاہرے نہیں، بلکہ انتظامی معاملات میں ان کی اطاعت کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع اور اس کی بارگاہ میں دعا کرنا ہے۔ افسوس ہے کہ اسلامی ملکوں میں جب سے مغرب کی ملعون جمہوریت آئی ہے ان کا سارا استحکام ختم ہو گیا ہے، کیونکہ امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ نظم مملکت انتشار اور ابتری سے محفوظ رہے اور یہ نظم بادشاہت میں اب بھی موجود ہے اور وہاں نسبتاً امن و استحکام ہے … لیکن جمہوریت نے جہاں اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں وہاں نظم مملکت سخت انتشار سے دو چار ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان ملکوں کے بیشتر وسائل اسی انتشار اور سیاسی اتھل پتھل کی نذر ہو رہے ہیں اور یہ سارے ’’جمہوریے‘‘ امن و استحکام سے محروم ہیں۔‘‘[1] ایک اور حدیث کا دوسرا فائدہ ظالم حکمران بھی جب تک کفر صریح کا ارتکاب نہ کریں اور شعائر اسلام بالخصوص نماز کی پابندی کریں، ان کے خلاف خروج و بغاوت کی اجازت نہیں کیونکہ بغاوت میں فائدہ موہوم ہے جب کہ نقصان بہت زیادہ ہے۔‘‘ (1/609) [1] ) ریاض الصالحین مترجم:1 /306-305۔