کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 249
ضابطہ نمبر8 لا علمی میں خطاء کا ارتکاب ایسا مومن جس نے حق کی اتباع کو اپنا مطلوب و مقصود بنا رکھا ہے اگر وہ کسی ایسی خطاء کا مرتکب ہوتا ہے جس کا اسے علم نہیں ہوتا تو وہ عنداللہ معذور تصور ہوگا۔ مقابلتہً ایسا عالم جو کوئی خطاء کا مرتکب معرفت کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کا مواخذہ ہوگا۔ تو پہلا شخص چونکہ اس کا مطمع نظر صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے کی پیروی ہے اور وہ اسی کو اپنا مطلوب و مقصود بنائے ہوئے ہے اور اس راستے پر چلتے ہوئے اگر اس سے کوئی خطاء صادر ہوتی ہے جس کے بارے میں اس کو کوئی علم نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا مواخذہ نہ ہوگا، اور اس کی نسبت ایسا عالم جو دین کو بہتر طور پر سمجھتا ہے اور خطا کا مرتکب ہوتا ہے تو اس پر اس کا مواخذہ ہوگا۔ بقول شاعر: العلم بلاعمل وبال والعمل بلاعلم ضلال کہ ایسا علم جو عمل کے بغیر ہو وبال جان ثابت ہوتا ہے اور وہ عمل جو علم کے بغیر ہو تو گمراہی ہے۔ چونکہ اس کو حق کی معرفت تھی اور اس کے تقاضوں سے با خبر تھا اور اگر اس کو پورا نہ کروں تو مجھ پر کیا عائد ہوگا تو وہ اگر کوئی غلطی کرتا ہے تو (ان اللّٰہ شدید العقاب) اس قاعدے کی اصل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا )(البقرۃ: 286) ’’اے ہمارے رب ہم سے مواخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر جائیں۔‘‘ علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ہذا أصل قاعدۃ أن الناسی والمخطیٔ غیر مکلفین ومن فروعہا عدم حنث الناسی والجاہل وسائر أحکامہا۔‘‘ [1] [1] ) الاکلیل فی استنباط التنزیل، ص: 165۔