کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 244
عصر پا لی۔‘‘ یہ حدیث بڑی واضح ہے کہ فجر کی ایک رکعت سورج طلوع ہونے سے پہلے پڑھ لی یا عصر کی ایک رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پڑھ لی تو اس نے صبح اور عصر کی نماز پا لی ہے، جبکہ احناف کے علماء کے نزدیک صبح کی نماز باطل ہو جاتی ہے جبکہ عصر کی نماز باطل نہیں ہوتی ملاحظہ ہو۔ [1] حنفی علماء نے اس حدیث کا جواب دینے کی کوشش کی ہے جس کا تذکرہ کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی لکھتے ہیں: ’’حدیث باب حنفیہ کے بالکل خلاف ہے مختلف مشائخ حنفیہ نے اس کا جواب دینے میں بڑا زور لگایا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی شافی جواب نہیں دیا جا سکا یہی وجہ ہے کہ حنفیہ کے مسلک پر اس حدیث کو مشکلات میں سے شمار کیا گیا ہے۔‘‘ [2] اور اس بحث کے آخر میں لکھتے ہیں: ’’حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ میں حنفیہ کی طرف سے کوئی ایسی توجیہ احقر کی نظر سے نہیں گزری جو کافی اور شافی ہو اس لیے حدیث کو توڑ موڑ کر حنفیہ کے مسلک پر فٹ کرنا کسی طرح مناسب نہیں، یہی وجہ ہے کہ حضرت گنگوہی نے فرمایا کہ اس حدیث کے بارے میں حنفیہ کی تمام تاویلات باردہ ہیں اور حدیث میں کھنچ تان کرنے کی بجائے کھل کر یہ کہنا چاہیے کہ اس بارے میں حنفیہ کے دلائل ہماری سمجھ میں نہیں آ سکے اور ان اوقات میں نماز پڑھنا ناجائز تو ہے لیکن اگر کوئی پڑھ لے تو ادا ہو جائے گی۔‘‘ [3] مفتی تقی عثمانی صاحب کی اس وضاحت سے معلوم ہو گیا کہ بڑے بڑے حنفی اکابر علماء نے صحیح صریح حدیث کو توڑ موڑ کر اپنے مذہب کے مطابق بنانے کی سعی لا حاصل کی ہے لیکن ان کی نظر میں کوئی تسلی بخش، شافی و کافی جواب بن نہیں پڑا اور اسے حنفیہ کے ہاں مشکلات میں سے شمار کیا گیا۔ جیسا کہ علامہ زیلعی نے نصب الرایۃ: 1/229 میں لکھا ہے۔ سو معلوم ہوا کہ کتنے ایسے مقلد علماء ہیں جنہیں حق کی معرفت ہو جاتی ہے مگر وہ تجمد تقلیدی اور تعصب [1] ) مختصر القدوری، ص: 97۔ ط مکتبہ البشری، الہدایۃ: 1/85۔ [2] ) درس ترمذی: 1/434۔ [3] ) درس ترمذی: 1/439-440۔ ناشر مکتبہ دارالعلوم کراچی نمبر: 14۔