کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 243
ضابطہ نمبر 7 تکفیری مسائل میں مقلد کا حق کی معرفت رکھنا اور نہ رکھنا تکفیری مسائل میں ایسا مقلد جو حق کی معرفت رکھتا ہے مگر اس سے منہ پھیر لیتا ہو اور ایسا مقلد جو حق کی معرفت نہ رکھتا ہو تو دونوں میں واضح فرق اس حکم میں مدنظر رکھنا لازم ہے۔ اور حقیقت میں دونوں قسمیں ہی ہمارے معاشرہ میں موجودہ ہیں ایک صاحب تقلید جسے حق کی پہچان بھی ہے لیکن صرف تعصب میں اس کی پیروی نہیں کرتا جبکہ دوسرے کو حق کی مکمل پہچان ہی نہیں ہے وہ صرف تقلید پر جاری و ساری ہے تو دوسرے شخص کا عذر مقبول ہو گا کہ جب تک اس کو حق کی مکمل خدوخال نہ دکھائے جائیں اس پر ہم حکم نہیں لگا سکتے۔ جبکہ پہلی قسم والا مقلد اس کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔ ایسے مقلدین کی بے شمار مثالیں ہیں جن کے سامنے حق بات کھل کر واضح ہو جاتی ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے تقلیدی مزاج کے مطابق باطل پر ڈٹے رہتے ہیں۔ جیسا کہ بیع خیار کے مسئلہ میں مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی نے لکھا ہے: ’’الحق والإنصاف أن الترجیح للشافعی فی ہذہ المسئلۃ لکن نحن مقلدون یجب علینا تقلید إمامنا أبی حنیفۃ رحمہ اللّٰه علیہ ۔‘‘ (التقریر للترمذی) ’’حق اور انصاف کی بات یہی ہے کہ اس مسئلہ میں ترجیح امام شافعی کو ہے لیکن ہم مقلدین ہیں ہمارے اوپر ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید واجب ہے۔‘‘ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح اور صریح حدیث ہے کہ: ((من أدرک من الصبح رکعۃ قبل أن تطلع الشمس فقد أدرک الصبح ومن أدرک رکعۃ من العصر قبل أن تغرب الشمس فقد أدرک العصر۔)) [1] ’’جس نے صبح کی ایک رکعت سورج کے طلوع ہونے سے پہلے پا لی اس نے لازماً صبح کی نماز پا لی اور جس نے ایک رکعت عصر کی سورج غروب ہونے سے پہلے پا لی تو اس نے لازماً نماز [1] ) صحیح البخاری: 579۔ نصب الرایۃ: 1/228۔ الحدیث الخامس۔