کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 239
ضابطہ نمبر 6 کم علم یا صحیح علم کے اخذ کرنے سے عاجز شخص ایسا شخص جو کہ مقابلتاً اور نسبتاً کم علم ہو یا پھر صحیح علم کے اخذ کرنے سے عاجز ہو، وہ متمکن اور صاحب علم کے مقابلے میں اس کا عذر قبول ہوگا۔ حجت انسانوں پر دو چیزوں سے قائم ہوتی ہے: اول:… جو کچھ اللہ نے نازل کیا اس پر متمکن ہو یا عالم ہو۔ دوم:… جو کچھ علم میں ہے اس پر عمل کی قدرت رکھتا ہو۔ علم کے اخذر کرنے سے عاجز یا غیر متمکن یا غیر عالم جیسے مجنون اور عمل سے عاجز وغیرہ ہیں ان کا عذر قبول ہوگا۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’والحجۃ علی عباد انما تقوم بشیئین بشرط التمکن من العلم بما أنزل اللّٰہ والقدۃ علی العمل بہ فاما العاجز عن العلم کالمجنون أو العاجز عن العمل فلا أمر علیہ ولا نہي۔‘‘ [1] ’’بندوں پر حجت دو چیزوں کے ساتھ قائم ہوتی ہے: جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کے بارے میں پوری طرح علم رکھتا ہو، اور اس پر عمل کرنے پر قدرت بھی ہو۔ علم سے عاجز، مجنون کی طرح ہے اور عمل سے عاجز پر امر و نہی نہیں ہیں۔‘‘ اس سلسلے میں یہ حدیث بھی پیش نظر رہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((رفع القلم عن ثلاثۃ عن النائم حتی یستیقظ وعن الصغیر حتی یکبر وعن المجنون حتی یعقل أو یفیق۔)) [2] ’’تین اشخاص سے قلم اٹھا لیا گیا۔ سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔ چھوٹے بچے سے یہاں تک کہ وہ بڑا ہو جائے اور دیوانے سے یہاں تک کہ اس کی عقل کام کرے یا [1] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: 20/59۔ [2] ) ابن ماجہ کتاب الطلاق: 2041۔ ابو داؤد: 4398۔ ابن حبان: 1496۔ المستدرک: 2/59۔