کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 234
ایمان کے داعیان کی قلت اور اکثر شہروں میں آثار رسالت کی کمی کی وجہ سے، اور ان میں اکثریت کے ہاں رسالت کے آثار اور نبوت کی میراث میں سے وہ حصہ نہیں ہے جس کی ساتھ راہ راست کی پہچان کر سکیں اور ان میں سے بہت سارے لوگوں کو یہ بات پہنچی ہی نہیں۔ دو نبیوں کے درمیانے اوقات اور جگہوں میں آدمی کے پاس جس قدر تھوڑا بہت ایمان ہے اس کے مطابق ثواب و بدلہ دیا جائے گا اور جس پر حجت قائم نہیں ہوئی اللہ اس کی بخشش فرما دے گا جبکہ جس پر حجت قائم ہو گئی اس کی بخشش نہ ہوگی۔‘‘ اس کے بعد امام صاحب نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ والی وہ حدیث ذکر کی ہے جس میں ایسے دور کا ذکر ہے جس میں لوگ نماز، روزہ، حج و عمرہ کو نہیں پہچانتے ہوں گے صرف باپ دادا سے کلمہ ہی سیکھا ہوگا، اس کا بیان پیچھے گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیں کتاب الدعاء از محمد فضیل بن غزوان الضبی (المتوفی 195ھـ) رقم (15)۔ پھر فرماتے ہیں: ’’فإن الإیمان من الأحکام المتلقاۃ عن اللّٰہ ورسولہ لیس ذلک مما یحکم فیہ الناس بظنونہم وأہوائہم ولا یجب أن یحکم فی کل شخص قال ذلک بانہ کافر حتی یثبت فی حقہ شروط التکفیر وتنتفی موانعہ مثل من قال أن الخمر أو الربا حلال لقرب عہدہ بالإسلام او لنشوئہ فی بادیۃ بعیدۃ أو سمع کلاما أنکرہ ولم یعتقد أنہ من القرآن ولا أنہ من أحادیث رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم کما کان بعض السلف ینکر أشیاء حتی یثبت عندہ أن النبی قالہا وکما کان الصحابۃ یشکون في أشیاء مثل رؤیۃ اللّٰہ وغیر ذلک حتی یسألوا عن ذلک رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم ۔‘‘ [1] ’’بلاشبہ ایمان وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والے احکام سے لیا جائے، وہ نہیں جس میں لوگ اپنے گمانوں اور خواہشات سے فیصلہ کریں اور ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس نے کفریہ بات کہی ہے اس پر کافر ہونے کا حکم لگایا جائے۔ یہاں تک کہ اس کے حق میں تکفیر کی شروط ثابت ہو جائیں اور اس کی موانعات کی نفی ہو جائے، جیسے کوئی شخص نیا نیا مسلمان ہونے یا [1] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: 35/165-166۔