کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 233
اور کئی ایک احدیث صحیحہ میں زوال علم اور ظہور جھل کو قیامت کی علامات میں سے شمار کیا گیا ہے۔ جیسا کہ صحیح البخاری کتاب الفتن میں باب ظہور الفتن کے اندر عبداللہ بن مسعود اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کی احادیث تھیں اور آج کتنے دیہات اور علاقے ایسے ہیں جہاں پر کتاب و سنت کی ماہر علماء موجود نہیں ہیں بلکہ اہل البدع کے علمائ، ذاکرین موجود ہیں جو انہیں بدعات و خرافات کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کے عقائد و اعمال بگاڑتے ہیں اور عوام کالانعام سمجھتے ہیں کہ ان کے علماء انہیں اللہ اور اس کے رسول اور اولیائے کرام کی باتیں بتاتے ہیں۔ اسی طرح صوبہ سندھ میں قرآن مجید سے اپنی بیٹیوں کی شادی کی قبیح رسم موجود ہے۔ اعاذنا اللّٰہ من ہذا۔ تو ایسے وقت میں اور ایسی جگہوں پر انسانوں کو جتنا کچھ ایمان میں سے میسر ہے تو وہ اتنے ہی عمل کے مکلف ہیں اور ان کو اس کا ہی اجر ملے گا واضح رہے یہ اس کے لیے ہے جس میں حجت کا قیام نہ ہو۔ قارئین حیران نہ ہوں اس جہالت اور قلت علم کا عام ملاحظہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں کیا جا سکتا ہے جہاں امام مسجد کو صرف چند سورتیں یاد ہیں نہ تو وہ پورا قرآن مجید درست تلفظ کے ساتھ پڑھ سکتا ہے معانی کا علم ہونا تو بعد کی بات ہے۔ اس ضمن میں ایک واقعہ قابل ذکر ہے جس کے ایک راوی سے راقم کی ملاقات ہے: دو سگے بھائیوں کے شادی دو سگی بہنوں سے ہوئی شب زفاف میں دونوں کی بیگمات تبدیل ہو گئیں، صبح اس بات کا علم ہونے پر مولوی صاحب سے رجوع کیا گیا تو انہوں نے فتویٰ دیا کہ جو جس کے پاس چلی گئی بس وہی اس کی بیوی ہے۔ اس سے لوگوں کی علمی سطح کا اور معلومات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وہؤلاء الاجناس وان کانوا قد کثروا فی ہذا الزمان فلقلۃ دعاۃ العلم والایمان وفتور آثار الرسالۃ فی الثر البلدان وأکثر ہؤلاء لیس عندہم من آثار الرسالۃ ومیراث النبوۃ ما یعرفون بہ الہدی وکثیر منہم لم یبلغہم ذلک، وفی أوقات الفترات وأمکنۃ الفترات یثاب الرجل علی ما معہ من الایمان القلیل ویغفراللّٰہ فیہ لمن لم تقم الحجۃ علیہ ما لا یغفر بہ لمن قامت الحجۃ علیہ۔)) [1] ’’اور یہ مختلف قسم کے لوگ (قلندریہ، متکلمہ وغیرہم) اگرچہ اس دور میں بہت زیادہ ہیں تو علم و [1] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: 35/165۔