کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 232
علی کتاب اللّٰہ عزوجل في لیلۃ فلا یبقی في الأرض منہ آیۃ وتبقی طوائف من الناس الشیخ الکبیر والعجوز یقولون أدرکنا آبائنا علی ہذہ الکلمۃ لا إلٰہ إلا اللّٰہ فنحن نقولہا فقال لہ صلۃ ما تغني عنہم لا إلٰہ إلا اللّٰہ وہم لا یدرون ما صلاۃ ولا صیام ولا نسک ولا صدقۃ فأرض عنہ حذیفۃ ثم ردہا علیہ ثلاثا کل ذلک یعرض عنہ حذیفۃ ثم أقبل علیہ في الثالثۃ فقال: (یا صلۃ تنجیہم من النار) ثلاثا۔)) [1] ’’اسلام اس طرح مٹ جائے گا جیسے کپڑے کے نقوش مٹ جاتے ہیں حتیٰ کہ لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں رہے گا کہ روزے کیا ہوتے ہیں یا نماز یا قربانی یا صدقہ کیا ہوتا ہے اللہ کی کتاب کو ایک ہی رات میں اٹھا لیا جائے گا، اور زمین میں اس کی ایک آیت بھی نہیں رہے گی لوگوں میں کچھ بوڑھے مرد اور عورتیں رہ جائیں گی جو کہیں گے: ہم نے اپنے بزرگوں کو لا الٰہ الا اللہ کہتے ہوئے دیکھا تھا ہم بھی کہتے صلہ بن زمر جو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے انہوں نے کہا: انہیں لا الٰہ الا اللہ سے کیا فائدہ ہوگا حالانکہ وہ نماز، روزہ، قربانی اور صدقہ کو نہیں جانتے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان سے منہ پھیر لیا انہوں نے تین بار یہ سوال کیا اور ہر دفعہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے منہ پھیرتے رہے تیسری بار ان کی طرف متوجہ ہو کر تین بار فرمایا: اے صلہ یہ کلمہ انہیں آگ سے بچا لے گا۔‘‘ اس حدیث کے فوائد بیان کرتے ہوئے فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’فتنوں کے ایام میں تھوڑا عمل بھی نجات کے لیے کافی ہوگا کیونکہ اس دور میں تھوڑے اسلام پر عمل کرنا بھی مشکل ہوگا۔ جیسے روس میں کمیونسٹوں کے دور حکومت میں مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنے کے لیے منظم کوششیں کی گئی تھیں جس کے نتیجے میں روس اور دوسرے کمیونسٹ ملکوں کے مسلمان علم سے اس طرح محروم ہو گئے کہ انہیں صرف اسلام کا نام یاد رہ گیا اور کچھ یاد نہ رہا۔‘‘ [2] [1] ) ابن ماجہ: (4039)۔ المستدرک للحاکم: 1/473-545۔ اسے حاکم نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا اور امام ذہبی نے ان موافقت کی ہے، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: ’’بسند قوی‘‘ فتح الباری: 13/16۔ ط دارالمعرفۃ: 16/453۔ ط دار طیبۃ، علامہ بوصیری فرماتے ہیں: (ہذا اسناد صحیح رجالہ ثقات) مصباح الزجاجہ فی زوائد ابن ماجہ: 4/124۔ ط مکتبۃ المعارف مع السنن لابن ماجہ، علامہ البانی اسے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ (87) میں لائے ہیں۔ [2] ) سنن ابن ماجہ، مترجم: 5/351۔ ط دارالسلام۔