کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 231
ضابطہ نمبر5 جہالت عام اور اہل علم کی قلت وہ زمانہ اور مکان جہاں جہالت عام اور اہل علم کی قلت ہو وہاں کا عذر تکفیر نہ کرنے پر قبول کیا جائے گا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’لیکن جہالت کے عام ہونے پر اور علم کی قلت واقع ہونے پر تکفیری امور سہل نہیں رہتے۔ جیسے انبیاء صالحین سے دعا مانگنا یہاں تک کہ آپ کو اس ضمن میں تعلیمات اسلام سے روشناس نہ کرائیں۔‘‘ [1] ہمارے پاکستان میں بعض دیہاتوں میں یہ جہالت دیکھنے میں آتی ہے کہ لوگ بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے۔ شمالی علاقہ جات کے بعض علاقوں میں اسلام اپنی مسخ شدہ صورت یعنی اسماعیلی مذہب اور شیعی مذہب کی صورت میں پہنچا، ان لوگوں کو اسلام کا علم نہیں اور تو اور یورپ میں بوسنیا میں جو مسلمان ہیں انہیں کلمہ توحید سے آگے اسلام کے تقاضوں کا علم نہیں وہ صرف اس لیے مسلمان ہیں کہ مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے اور انہیں کلمہ یاد کروا دیا گیا اس کے بعد ان کے اعمال، لباس، چال ڈھال ہر چیز میں یہودیت، عیسائیت نظر آتی ہے۔ جیسا کہ شیخ ابو عبدالعزیز حفظہ اللہ نے جب بوسنیا سے واپسی پر مرکز طیبہ میں درس دیا تو بتایا کہ وہاں کے لوگوں کو صرف یہ پتہ ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور انہوں نے قرآن مجید تک نہ دیکھا تھا اور جب پتہ چلا کہ مجاہدین کے پاس ہمارا قرآن ہے تو زیارت کے لیے لائنیں لگ گئیں۔ خود ہمارے اپنے گھر اسلام کی معلومات کا یہ حال تھا کہ ہم بہشتی زیور، پکی روٹی اور تعلیم اسلام از مفتی کفایت اللہ کو کل دین سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں یہ حدیث بھی مدنظر رہے: ((عن حذیفۃ بن الیمان قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم : یدرس الإسلام کما یدرس وشي الثوب حتی لا یدری ما صیام ولا صلاۃ ولا نسک ولا صدقۃ ولیسری [1] ) الرد علی البکری لابن تیمیہ: 2/630، رقم: 376۔ وفی نسخۃ: 412۔