کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 228
شیخ محمد بن ابراہیم لکھتے ہیں: ’’أشیاء تکون غامضۃ فہذہ لا یکفر الشخص فیہا ولو بعد ما أقیمت علیہ الأدلۃ و سوائً کانت فی الفروع أو الاصول و من أمثلۃ ذلک الرجل الذی أوصی أہلہ أن یحرقوہ اذا مات۔‘‘[1] ’’بعض اشیاء پیچیدہ اور غیر واضح ہوتی ہیں، ان کے مرتکب شخص کی تکفیر نہیں کی جائے گی اگرچہ اس پر دلائل قائم ہونے کے بعد ہوں خواہ وہ فروع میں ہوں یا اصول میں۔ یعنی عملی اور اعتقادی دونوں طرح کے مسائل میں جہاں غموض و پیچیدگی ہو گی تو ان میں کسی کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔‘‘ نیز صحابہ کرامf کے درمیان فرائض، رضاعت اور طلاق وغیرہ کے مسائل میں اختلاف کے واقعات رونما ہوئے جبکہ وہ براہِ راست منبع نوع سے مستفید و مستفیض ہوئے۔ اسی کی ایک مثال رضاعت کے مسئلہ کی ہے کہ بڑی عمر میں رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں، ابو موسیٰ اشعری نے اس پر فتویٰ دیا تھا کہ بڑی عمر میں بھی رضاعت ثابت ہوئی ہے جبکہ عبداللہ بن مسعود نے دو سال کی عمر میں رضاعت کی حرمت کا فتویٰ دیا۔ جیسا کہ اصول و تکفیر اور اس کے ضوابط و شروط کے شروع میں ذکر ہو چکا ہے، لگتا ہے کہ ابو موسیٰ اشعری نے مطلق رضاعت سے یہ سمجھا خواہ وہ کسی بھی عمر میں ہو جبکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حولین کاملین کی نص سے مدت رضاعت دو سال سے بات اخذ کی۔ اب اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بہت سارے مسائل جو موجودہ زمانے کے احوال کے تحت، وقت کے گردابوں کے تحت چھپ گئے اور لوگوں کے لیے دقت طلب بن گئے ہیں ان میں خطاء ہونا کوئی بعید نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اس میں مغفرت فرمائے۔ آمین خلاصۃ القول علم کی وسعت کی بناء پر مطلقا کسی پر فوری حکم لگانا جائز نہیں۔ چونکہ اس کا تعلق علماء اور فضلاء سے ہے لہٰذا اس بارے میں ان کے اعذار مقبول ہوں گے۔ صحابہ کرام میں بھی یہ اختلاف واقع ہوئے لہٰذا ان اختلاف کی بناء پر کسی عالم دین کی تکفیر کرنا جائز نہیں یہاں تک کہ شروط پوری نہ ہو۔  [1] ) فتاویٰ و رسائل للشیخ محمد بن ابراہیم: 1/74۔