کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 227
ضابطہ نمبر4 دقیق اور مخفی مسائل میں عذر قبول کرنا بعض مسائل اتنے دقت طلب اور وسیع ہوتے ہیں کہ ان پر کماحقہ دسترس حاصل ہونا یا ان پر مکمل نظر رکھنا بہت مشکل امر ہے خاص طور پر علوم کی ترقی و ترویج کے بعد یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ ایک شخص ان تمام علوم پر دسترس حاصل کر لے۔ ان میں اصل یہ ہے کہ ایسے مسائل میں تو فضلاء اور علماء کا عذر بھی مقبول ہوتا ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اسی مسئلہ پر شافی و کافی گفتگو فرماتے ہیں کہ: ’’ولا ریب أن فی دقیق العلم مغفور للأمۃ وإن کان ذلک فی المسائل العلمیۃ ولولا ذلک لہلک اکثر فضلاء الأمۃ، وإذا کان اللّٰہ یغفر لمن جہل تحریم الخمر لکونہ نشأ بأرض جہل مع کونۃ لم یطلب العلم فالفاضل المجتہد فی طلب العلم بحسب ما أدرکہ فی زمانہ ومکانہ إذا کان مقصودہ متابعۃ الرسول بحسب إمکانہ ہو أحق بأن یتقبل اللّٰہ حسناتہ ویثیبہ علی اجتہاداتہ ولا یؤاخذہ بما أخطأ تحقیقا لقولہ: (رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا )(البقرۃ: 286)۔‘‘ [1] ’’اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دقیق مسائل میں خطاء کو امت کے لیے بخش دیا گیا ہے، چاہے وہ علمی مسائل ہی کیوں نہ ہوں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو امت محمدیہ کے اکثر فضلاء ہلاک ہو جاتے، اور جب جہالت میں شراب پینے کا جرم کرنے والاے کو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتے ہیں جو ایسے علاقے میں پروان چڑھا جہاں جہالت ہے باوجود اس امر کے وہ اس بارے میں علم حاصل نہیں کرتا تو ایک عالم اور فاضل جو کہ صرف اور صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں مسائل علمیہ پر غور و فکر اور تدبر و تعقل کرتا ہے تو وہ اس بات کا زیادہ حقدار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے حسنات کو قبول کرے اور اجتہادات پر اجر دے اور خطاؤں پر مواخذہ نہ کرے اللہ تعالیٰ کے کلام کے مطابق؛ (اے ہمارے رب! ہم سے مواخذہ نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر جائیں)۔‘‘ [1] ) مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: 20/165-166۔ (ماخوذ)۔