کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 223
’’وإنی أکفر من توسل بالصالحین، وإني أکفر البوصیری لقولہ ((یا أکرم الخلق))، وإني أقول لو أقدر علی ہدم قبۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم لہدمتہا، ولو أقدر علی الکعبۃ لأخدت میزابہا وجعلت لہا میزاباً من خشب وإني أحرم زیارۃ قبر النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم وإني أنکر زیارۃ قبر الوالدین وغیرہما، وإني أکفر من حلف بغیر اللّٰہ، وإني أکفر ابن الفارض وابن عربي، وإني أحرق دلائل الخیرات وروض الریاحین وأسمیۃ روض الشیاطین۔ جوابي عن ہذہ المسائل أن أقول سبحانک ہذا بہتان عظیم۔‘‘ [1] ’’مجھ پر بہتان تراشیاں کرنے والے کہتے ہیں کہ میں اولیاء کرام سے توسل کرنے والوں کو کافر کہتا ہوں اور بوصیری کی اس کے قول ((یا أکرم الخلق)) کی وجہ سے تکفیر کرتا ہوں، اور کہتا ہوں کہ اگر قبۃ الرسول گرانے پر قادر ہوا تو گرا دوں گا، اور کعبہ پر مجھے قدرت ہوئی تو اس کا پرنالہ اتار کر لکڑی پر نالہ لگا دوں گا اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت حرام سمجھتا ہوں اور والدین و غیرہما کی قبروں کی زیارت کا منکر ہوں اور جو غیراللہ کی قسم اٹھاتا ہے اسے کافر کہتا ہوں اور ابن الفارض اور ابن عربی کی تکفیر کرتا ہوں اور دلائل الخیرات اور روض الریاحین کو جلاتا ہوں اور اس کا نام روض الشیاطین رکھتا ہوں ان تمام الزامات کا میری طرف سے ان مسائل میں یہی جواب ہے۔ سبحانک ہذا بہتان عظیم۔‘‘ شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’إن صاحب البردۃ وغیرہ ممن یوجد الشرک في کلامہ ولغلو في الدین، وما توا لا یحکم بکفرہم، وإنما الواجب إنکار ہذا الکلام، وبیان من اعتقد ہذا علی الظاہر فہو مشرک کافر، وأما القائل فیرد أمرہ إلی اللّٰہ سبحانہ وتعالی، ولا ینبغي التعرض للأموات، لأنہ لا یعلم ہل تاب أم لا…۔‘‘ [2] ’’بلاشبہ صاحب بردہ وغیرہ جس کے کلام میں شرک اور دین میں غلو پایا جاتا ہے اور وہ فوت ہو گئے ہیں ان پر کافر ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا، بس واجب تو یہ ہے کہ ان کے کلام کا انکار کیا جائے اور یہ بات بیان کی جائے کہ جس نے ظاہری طور پر یہ اعتقاد رکھا وہ مشرک کافر ہے اور [1] ) مؤلفات الشیخ: 6/12۔ القسم الخامس: 3/7-8۔ الرسالۃ الاولیٰ۔ [2] ) دعاوی المناوئین، ص: 223۔ مجموعۃ الرسائل والمسائل: 1/47۔