کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 222
اور محرمات ابدیہ کے ساتھ نکاح کو حلال قرار دینا پھر ان چیزوں کے قائل کو کبھی یہ بات نہیں پہنچی ہوتی اور اسی طرح ان کے انکارکرنے والے کی تکفیر نہیں کی جاتی جیسے وہ شخص جو نیا نیا مسلمان ہوا ہو، یا دور دراز جنگلی علاقے میں رہتا ہو اور اسے اسلام کی احکامات نہ پہنچے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کر دو کسی چیز کے انکار پر اس کے کافرہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا جب اسے علم ہی نہ ہو کہ یہ چیز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی ہے۔‘‘ امام ابن تیمیہ کی مذکورہ بالابحث سے جہاں تکفیر کے متعلق کئی پہلو واضح ہو جاتے ہیں وہاں یہ بات بھی اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ تکفیر میں اصولی و اعتقادی اور فروعی و عملی مسائل کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ جان لینا چاہیے کہ حریص حق کے لیے، اجتہادکرنے والے کے لیے مغفرت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے کہ وہ کسی چیز کو عقیدہ بناتا اور اس کی بنیاد قرآن مجید یا احادیث ہوتی ہیں وغیرہ۔ اس ضابطے کے لیے امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے بڑی عمدہ بات کی ہے اور شیخ نے وہ طریقہ اختیارکیا جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے روا رکھا تھا کہ قیام حجت سے قبل کسی کی تکفیر نہیں کرنی چاہیے وہ مسائل نظری ہوں یا عملی ہوں۔فرماتے ہیں: ’’وأما ما ذکر الأعداء عنی أنی أکفر بالظن وبالموالاۃ أو أکفر الجاہل الذی لم تقم علیہ الحجۃ فہذا بہتان عظیم یریدون بہ تنفیر الناس عن دین اللّٰہ ورسولہ۔‘‘[1] ’’یہ جو ہمارے مخالفین ہم پر بہتان لگاتے ہیں کہ میں صرف گمان اورموالات پر تکفیر کرتا ہوں یا ایسے جاہل کو کافر کہتا ہوں جس پر حجت قائم نہیں ہوئی تو یہ بہتان عظیم ہے اس کی کوئی اصل نہیں ہے بلکہ اس سے مقصد لوگوں میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے نفرت پیداکرنا ہے۔‘‘ بلکہ یہ فرمایا ہے کہ: جب ہم اس بندہ کی تکفیر نہیں کرتے جو احمد بدوی کی قبر کی عبادت کرتا ہے کہ وہ جاہل ہے اور اس کو کوئی بتانے والا نہیں ہے تو ہم غیر مشرک کی تکفیر کیوں کریں۔ [2] اس کا حوالہ پہلے گزر چکا ہے پھر ایک مقام پر اپنے اوپر لگائے گئے بہتانات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: [1] ) مؤلفات الشیخ الامام محمد بن عبدالوہاب: 6/25۔ القسم الخامس الرسائل الاشخصیۃ، وفی نسخۃ: 3/14۔ الرسائل الشخصیۃ۔ [2] ) منہاج اہل الحق والاتباع: 56۔ مصباح الظلام، الدر السنیۃ۔