کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 220
یعنی دل سے دوبارہ دیکھا ہے۔ مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’یا أمتاہ ہل رأی محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم ربہ؟ فقالت: لقد قفّ شعری مما قلت، أین أنت من ثلاث من حدثکہن فقد کذب، من حدثک أن محمدا صلی اللّٰه علیہ وسلم رأی ربہ فقد کذب ثم قرأت: (لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ )(الانعام: 103) (وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ) (الشوریٰ: 51) ومن حدثک أنہ یعلم ما فی غد فقد کذب ثم قرأت: (وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا) (لقمان: 34) ومن حدثک أنہ کتم فقد کذب ثم قرأت( يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ) (المائدۃ: 67) ولکنہ رأی جبریل علیہ السلام فی صورتہ مرتین۔‘‘[1] ’’اے امی جان! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے توانہوں نے کہا: جو بات تم نے کہی ہے اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، تم ان تین آیات میں سے کہاں ہو۔ جس نے تم کو بیان کیا اس نے جھوٹ بولا: جس نے تم سے بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے جھوٹ بولا۔ پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ’’اس کو آنکھیں نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کو پالیتا ہے اور وہ نہایت باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘، ’’اورکسی بشر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے ماسوا وحی کے یا پردے کے پیچھے سے۔‘‘ اور جس نے تم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے کل کی باتیں جانتے ہیں تو اس نے جھوٹ بولا۔ پھر ام المومنین نے یہ آیت پڑھی: ’’اور کوئی بھی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا۔‘‘ اورجس نے تم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کوئی آیت) چھپا لی ہے تو اس نے جھوٹ بولا، پھر یہ آیت پڑھی: ’’اے رسول! جو کچھ تجھ پر نازل کیا گیا ہے تیرے رب کی طرف سے اس کو پہنچا دو۔‘‘ لیکن آپ نے جبرئیل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دو بار دیکھا ہے۔‘‘ [1] ) صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ النجم: 4855۔ وکتاب بدء الخلق: 3235،3234۔ وکتاب التوحید: 7380۔ صحیح مسلم:177/328۔ ترمذی: 3278۔ مسند احمد: 40/275 (42227)۔ مسند ابی یعلی: 4901،4902۔ تفسیر الطبری سورۃ المائدۃ: 67۔ وسورۃ الانعام: 103۔ مسند ابی عوانہ: 1/155،154۔ کتاب الایمان لابن مسند: 768،767۔ تفسیر عبدالرزاق: 2/252۔ دلائل النبوۃ للبیھقی: 2/368،367۔