کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 218
مقام پر تفصیل سے ذکر کیا ہے۔‘‘ ایک اورمقام پر لکھتے ہیں: ’’أن المتأول الذی قصدہ متابعۃ الرسول لا یکفربل ولا یفسق إذا اجتہد فأخطأ وہذا مشہور عند الناس فی المسائل العملیۃ وأما مسائل العقائد فکثیر من الناس کفر المخطئین فیہا وہذا القول لا یعرف عن أحد من الصحابۃ والتابعین لہم بإحسان ولا عن أحد من أئمۃ المسلمین وإنما ہو فی الأصل من أقوال أہل البدع الذینیبتدعون بدعۃ ویکفرون من خالفہم کالخوارج والمعتزلۃ والجھمیۃ ووقع ذلک فی کثیر من أتباع الأئمۃ کبعض أصحاب مالک والشافعی وأحمد وغیرہم۔‘‘[1] ’’بلاشبہ وہ متاول جو اپنی تاویل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کا مقصد رکھتا ہے اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی بلکہ اسے فاسق بھی قرارنہیں دیا جائے گاجب وہ اجتہادکرے اور اس میں خطا کر جائے اور یہ بات لوگوں کے ہاں عملی مسائل میں مشہورہے اور رہے وہ مسائل جن کا اعتقاد سے تعلق ہے تو بہت سارے لوگوں نے ان میں خطاکرنے والوں کی تکفیر کی ہے اور یہ ایسا قول ہے جو کسی صحابی یا اچھے طریقے سے ان کے پیچھے آنے والے لوگوں سے معروف نہیں ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے ائمہ میں سے کسی سے معروف ہے یہ اصل میں اہل البدع کے اقوال میں سے ہے جو ایک بدعت ایجاد کرتے ہیں اور اپنے مخالفین کو کافر قرار دیتے ہیں جیسا کہ خوارج، معتزلہ اورجہمیہ ہیں اور اس میں آئمہ کی اتباع کرنے والے بہت سارے لوگ واقع ہو چکے ہیں جیسا کہ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد وغیرہم کے اصحاب۔‘‘ کیونکہ ممکن ہے کہ کفریہ قول کا قائل اس تک صحیح نصوص نہ پہنچی ہوں اور بعض اوقات ہو سکتا ہے کہ پہنچی ہوں لیکن اس کے نزدیک ثابت نہ ہوں یا پھر وہ درست طور پر ان کو نہ سمجھ سکا ہو یا پھر اس کے پاس شبہات ہوں تو جو شخص حق کی طلب و حرص میں کسی خطاء کا مرتکب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ اب وہ مسائل اعتقادی/ نظری ہوں یا فروعی/ عملی اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے یہی وہ درست مذہب ہے جس پر آئمہ کرام علیہ السلام اور سلف صالحین علیہ السلام تھے کہ انہوں نے نظری اور عملی مسائل میں کوئی تقسیم نہ کی کہ یہ اصولی مسائل ہیں ان کا منکر کافر اور یہ فروعی مسائل ہیں ان کا منکر کافر نہ ہوگا۔ [1] ) منہاج السنۃ: 5/239۔240۔