کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 217
ضابطہ نمبر 3 تکفیر میں اصول اور فروعی مسائل کی کوئی تخصیص نہیں مسئلہ تکفیر میں ایک بڑی غلط فہمی کہ تکفیر صرف اصولی مسائل میں ہے اور فروعی مسائل میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے یعنی اصولی مسائل سے مراد اعتقادی مسائل اور فروعی مسائل سے مرادعملی مسائل۔ جبکہ نہ تو قرآن مجید سے اورنہ ہی احادیث صحیحہ سے بلکہ سلف صالحین میں سے کسی ایک سے بھی کوئی ثبوت نہیں ملتاکہ فروعی معاملات میں تکفیر نہیں ہے اور اس قول کا اسلام اور نہ ہی سلف صالحین سے کوئی تعلق ہے بلکہ یہ اہل کلام اورمبتدعہ کا قول ہے جیسے خوارج، معتزلہ، جہمیہ اور اشاعرہ وغیرہ اور افسوس کی بات کہ یہ عقیدہ ہمارے عامۃ الناس میں تکفیر کے مسائل میں بنیادی حیثیت اختیارکر گیا ہے اور بعض فضلاء حضرات بھی اس جہالت کے شکار دیکھے ہیں۔ جبکہ یہ بات کسی امام سے ثابت نہیں کہ ’’نصوص وعیدیہ عن التکفیر‘‘ سے مراد تکفیر عین ہے اور یہ کہ ہر مبتدع کافر ہے ہاں یہ ضرور ہے کہ جو یہ قول کہے یا فعل کا مرتکب ہو وہ کفر کا مرتکب ضرور ہوا ہے اور اس سے مراد تحذیر و ترہیب ہے نہ کہ مطلقاً تکفیر اور یہ لازم نہیں کہ اگر قول کفریہ ہو تو اس کاقائل بھی کافرہو گا یا تکفیر کامستحق ہو گاجبکہ وہ معذورہو تولازم ہے کہ مکمل شروط و ضوابط ثابت ہونے کے بعد تکفیر کی جائے گی۔[1] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ولا یلزم إذا کان القول کفرا أن یکفر کل من قالہ مع الجھل والتأویل فإن ثبوت الکفر فی حق الشخص المعین کثبوت الوعید فی الآخرۃ فی حقہ وذلک لہ شروط وموانع کما بسطناہ فی موضعہ۔‘‘[2] ’’جب بات کفریہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر وہ شخص جس نے جہالت اور تاویل کے ساتھ وہ بات کہی ہے اسے کافر کہا جائے تو بلاشبہ معین شخص کے حق میں کفر ثبوت اس کے حق میں آخرت میں وعید کے ثبوت کی طرح ہے۔ اس کی شروط اورموانع ہیں جیسا کہ ہم نے اس کے [1] ) نصوص وعیدیہ عن التکفیر یعنی وہ نصوص جن میں کسی کام یا فعل کے مرتکب کو کفر کی وعید سنائی گئی ہو۔ [2] ) منہاج السنۃ: 5/240۔ بتحقیق الدکتور محمد ارشاد سالم۔