کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 214
لیں پھر اسے دوسرے لوگوں تک پہنچائیں۔‘‘ مذکورہ بالا ائمہ مفسرین اور علمائے امت کی تصریحات سے واضح ہو گیا کہ اتمام حجت کے لیے فہم حجت بھی لازمی ہے یہ ضروری نہیں کہ اسے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جیسا ہی فہم نصیب ہو لیکن اتنا ضروری ہے کہ اسے کلام اللہ اور کلام الرسول کا مفہوم معلوم ہو جائے اور اس کے شبہات کا ازالہ ہو جائے۔ اگر اس کے پاس آیات قرآنیہ تلاوت کی گئیں اور احادیث نبویہ بیان کی گئیں لیکن اسے ان کی مراد اور مفہوم واضح نہ بتایا گیا تو اس پر اتمام حجت نہ ہو گا۔ شیخ محمد رشید رضا المصری فرماتے ہیں: ’’من لم یفہم الدعوۃ لم تقم علیہ الحجۃ۔‘‘[1] ’’جس نے دعوت کو نہیں سمجھا اس پر حجت قائم نہ ہوئی۔‘‘ خلاصۃ القول 1 تکفیر صرف اللہ اور اس کے رسول کے حقوق میں سے ہے۔ 2 قیام حجت سے قبل تکفیر کرنی جائز نہیں ہے۔ 3 ازالہ شبہات سے قبل بھی تکفیر جائز نہیں۔ 4 ازالہ جہالت کے بعد تکفیر کی جاتی ہے اگرمزید کوئی موانع تکفیر نہ ہو۔ جہالت کا شکار ہو کر کوئی کتنا بھی جرم کر لے اگر وہ اپنی غلطی ماننے پر توبہ کر لیتا ہے حتیٰ کہ غیر اللہ کو سجدہ بھی… تو وہ بھی قابل معافی ہے۔ جہالت کے اسباب میں سے ہو سکتا ہے کہ اس نے اسلام حال ہی میں قبول کیا ہو۔ کہ اس تک تعلیمات اسلام مکمل نہ پہنچی ہوں۔ کہ اس کے پاس کوئی معارض نصوص وغیرہا ہوں۔ کہ اس تک تعلیمات اسلام کی صحیح صورت نہ پہنچی ہو۔  [1] ) ہامش مجموع الرسائل النجدیۃ: 5/514۔