کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 213
علامہ ابو عبداللہ عبدالرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’وہذا من لطفہ بعبادہ أنہ ما أرسل رسولا (إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ) ما یحتاجون إلیہ ویتمکنون من تعلم ما أتی بہ بخلاف ما لو أتی علی غیر لسانہم فإنہم یحتاجون الی تلک اللغۃ التی یتکلم بہا چم یفہمون عنہ فإذا بین الرسول ما أمروا بہ ونہوا عنہ وقامت علیہم حجۃ اللّٰہ۔‘‘[1] ’’اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ اس نے ہر ایک رسول کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا ہے تاکہ وہ ان کے سامنے ان امور کو واضح کرے جن کے وہ محتاج ہیں اور وہ اگر ان کی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں کتاب لے کر آیا ہوتا تو وہ اس زبان کو سیکھنے کے محتاج ہوتے جس میں رسول کلام کرتا ہے تب کہیں جا کر رسول کی باتیں ان کی سمجھ میں آتیں پس جب رسول ان تمام امور کو بیان کر دیتا ہے جن کا انہیں حکم دیا گیا اور جن سے ان کو روکا گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے تو ان میں سے جو لوگ ہدایت کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کو گمراہ کر دیتا ہے اورجن کو اپنی رحمت کے لیے مختص کر لیتا ہے ان کو راہ ہدایت سے نواز دیتا ہے۔‘‘[2] اور یہی بات شیخ صالح العثیمین نے اپنی تفسیر ’’التفسیر الثمین‘‘ میں درج کی ہے۔[3] دکتور وہبۃ الزحیلی لکھتے ہیں: ’’ومن فضل اللّٰہ وتیسیرہ الإہتداء بہدایتہ إرسال کل رسول إلی قومہ بلغتہم لیبین لہم أمر دینہم ولیفہموا منہ شرائع اللّٰہ ویفقہوہا عنہ بیسر و سرعۃ ثم ینقلوہا لغیرہم۔‘‘[4] ’’اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی آسانی میں سے ہے کہ اس نے اپنی ہدایت کی راہنمائی کے لیے ہر رسول کو اس کی قوم کی طرف ان کی لغت اور زبان میں بھیجا تاکہ وہ رسول ان کے لیے ان کے امور دینیہ کھول کھول کر بیان کرے اور وہ اس سے اللہ کی شرائع اور احکام کو آسانی اور جلدی سمجھ [1] ) تفسیر السعدی ص: 486۔ ط دار احیاء التراث العربی۔ [2] ) تفسیر السعدی اردو: 2/1336۔ ط دارالسلام۔ [3] ) التفسیر الثمین: 5/107،108۔ ط مکتبۃ الطبری۔ [4] ) التفسیر المنیر فی العقید والشریعۃ والمنہج:13/205۔