کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 211
رسول ہوں۔‘‘ بلکہ جن و انس کی طرف اور ان کی زبانیں مختلف ہیں اگر عرب کے لیے حجت نہ ہو گی تو ان کے علاوہ کے لیے حجت کیسے۔ میں کہتاہوں یہ بات دو حال سے خالی نہیں، یا تو وہ تمام زبانوں میں وحی نازل کرتا یا ان میں سے کسی ایک زبان میں، تمام زبانوں میں نازل کرنے کی حاجت نہ تھی۔ اس لیے کہ ترجمہ اس کی نیابت کرتا ہے اور طوالت سے بچنے کے لیے کافی ہے تو متعین ہو گیا کہ وہ ایک ہی زبان میں وحی نازل کرتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی زبان تعیین کے لیے سب سے اولیٰ تھی اس لیے کہ وہ لوگ آپ کے زیادہ قریب تھے۔‘‘ علامہ ابو منصور محمد بن محمد الماتریدی السمر قندی سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 4 کی تین وجوہ بیان کر کے لکھتے ہیں: ’’فعلی ذلک کل ذی لسان بلسانہ أفہم وأقرب للقبول وآلف من غیرہ وقولہ تعالی: (لِيُبَيِّنَ لَهُمْ )قال قائلون: لیکون أبین لہم وأفہم وقال قائلون: (لِيُبَيِّنَ لَهُمْ )فیفہمون قول رسولہم۔‘‘[1] ’’تو اس بناء پر ہر زبان والا اپنی زبان میں زیادہ بات سمجھنے والا اور قبولیت کے زیادہ قریب اور اس کے علاوہ کی نسبت زیادہ مانوس ہوتا ہے اوراللہ کا فرمان ہے: ’’تاکہ وہ ان کے لیے کھول کر بیان کر دے۔‘‘ کہنے والوں نے کہا: تاکہ وہ ان کے لیے زیادہ واضح اور سمجھ میں آنے والا ہو جائے اور کہنے والوں نے کہا: ’’تاکہ وہ ان کے لیے کھول کر بیان کر دے۔‘‘ اس لیے کہ وہ اپنے رسول کی بات کو سمجھ سکیں۔‘‘ علامہ علاء الدین علی بن محمد بنابراہیم البغدادی المعروف بالخازن لکھتے ہیں؛ ’’قولہ تعالیٰ: ( وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ )یعنی بلغۃ قومہ لیفہموا عنہ ما یدعوہم إلیہ۔‘‘ ’’اللہ کا فرمان ہے: ’’اورنہیں بھیجا ہم نے کوئی بھی رسول مگر اسی قوم کی زبان میں۔‘‘ یعنی اس قوم کی لغت میں تاکہ رسول انہیں جس بات کی طرف بلائے وہ اس سے سمجھ لیں۔‘‘ پھر اس کے بعد لکھتے ہیں: ’’فإن قلت: لم یبعث اللّٰہ رسول صلی اللّٰه علیہ وسلم إلی العرب وحدہم وإنما بعث إلی الناس جمیعًا بدلیل قولہ تعالی (قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا )( (الاعراف: 158)۔‘‘ [1] ) تاویلات اہل السنۃ: 3/7۔ ط مؤسسۃ الرسالۃ۔