کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 209
’’اللہ نے کسی بھی قوم کی طرف کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی قوم کی زبان میں جب معاملہ یہ ہے تو ان کے لیے اس شریعت کے اسرار کو سمجھنا اور اس کے حقائق پر واقف ہونا بہت زیادہ آسان ہے۔‘‘ نواب صدیق الحسن خان قنوجی لکھتے ہیں: ’’وما ارسلنا من رسول الا متلبسا (بِلِسَانِ قَوْمِهِ )متکلما بلغتہم لأنہ إذا کان کذلک فہم عنہ المرسل إلیہم ما یقولہ لہم ویدعوہم إلیہ وسہل علیہم ذلک بخلاف ما لو کان بلسان غیرہم فإنہم لا یدرون ما یقول ولا یفہمون ما یخاطبہم بہ حتی یتعلموا ذلک اللسان دہرا طویلا۔‘‘ [1] ’’اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی بھی رسول مگر وہ اپنانے والا ہے (اس قوم کی زبان کو) ان کی زبان میں بات کرنے والا ہے اس لیے کہ جب ایسی صورتحال ہوگی تو جن کی طرف رسول کو بھیجا گیا ہے وہ اس بات کو سمجھ لیں گے جو رسول انہیں کہتا ہے اور جس طرف انہیں دعوت دیتا ہے اور یہ کام ان پر آسان ہو جائے گا اور اگر اللہ تعالیٰ کس دوسری زبان میں ان کی طرف رسول بھیجتا تو جو وہ کہتا قوم اسے نہ جانتی اور اس کے خطاب کو نہ سمجھتی یہاں تک کہ وہ لمبا عرصہ پہلے وہ زبان سیکھے۔‘‘ علامہ ابو حیان الاندلسی لکھتے ہیں: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ العموم فیندرج فیہ الرسول علیہ الصلاۃ والسلام۔ فإن کانت الدعوۃ عامۃ للناس کلہم، أو اندرج في اتباع ذلک الرسول من لیس من قومہ، کان من لم تکن لغتہ لغۃ ذلک النجي موقوفاً علی تعلم تلک اللغۃ حتی یفہمہا۔‘‘ [2] ’’(اور ہم نے کوئی بھی رسول نہیں بھیجا) اس آیت میں عموم ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس عموم میں داخل ہیں اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سب لوگوں کے لیے عام ہے اور اس رسول کی اتباع میں وہ بھی شامل ہوگا جو اس کی قوم میں سے نہیں ہے جس کی زبان اس کی نبی کی زبان نہیں ہے تو اس کا دارومدار اس زبان کو سیکھنے پر ہے یہاں تک کہ وہ اس کو سمجھ جائے۔‘‘ علامہ ابو محمد مکی بن ابی طالب القیسی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: [1] ) فتح البیان فی مقاصد القرآن: 3/525۔ ط دارالکتب العلمیہ۔ [2] ) تفسیر البحر المحیط: 5/518۔