کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 208
حجت بنا لے۔‘‘ امام ابن الجوزی لکھتے ہیں: ’’قولہ تعالیٰ: (لِيُبَيِّنَ لَهُمْ )أي الذي أرسل بہ فیفہمونہ عنہ۔)) [1] ’’اللہ کا فرمان ہے: (تاکہ وہ ان کے لیے کھول کر بیان کر دے) یعنی جو چیز رسول کے ساتھ بھیجی گئی وہ اس سے رسول سے سمجھ لیں۔‘‘ امام ابن عادل الدمشقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ: ’’اللہ نے اس آیت میں اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے ایک تو رسول اللہ کی نسبت سے کہ تمام انبیاء اپنی اپنی قوموں کی طرف بھیجے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کی طرف اور دوسرا احسان عام مخلوق کی نسبت سے اور وہ یہ ہے: ’’ما بعث رسولاً إلی قوم إلا بلسانہم لیسہل علیہم فہم تلک الشریعۃ۔)) [2] ’’اللہ نے کسی بھی قوم کی طرف کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ان کی زبان میں تاکہ اس شریعت کو سمجھنا ان پر آسان ہو جائے۔‘‘ پھر امام قرطبی کے حوالے سے لکھتے ہیں: ’’قال القرطبي: ولا حجۃ للعجم وغیرہم في ہذہ الآیۃ؛ لأن کل من ترجم لہ ما جاء بہ النبي صلوات اللّٰہ وسلامہ علیہ ترجمۃ یفہمہا لزمتہ الحجۃ۔‘‘ [3] ’’قرطبی نے کہا: اس آیت کریمہ میں عجمی وغیرہم کے لیے حجت نہیں ہے اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ بھی لے کر آئے اس کا جب ہر کسی کے لیے ترجمہ کر دیا گیا ہے جس کو وہ سمجھتا ہے تو اس پر حجت لازم ہو گئی۔‘‘ امام رازی لکھتے ہیں: ’’ما بعث رسولاً إلی قوم إلی بلسان أولئک القوم، فإنہ متی کان الأمر کذلک، کان فہمہم لأسرار تلک الشریعۃ و وقوفہم علی حقائقہا أسہل۔)) [4] [1] ) زاد المسیر فی علم التفسیر: 2/504۔ بتحقیق عبدالرزاق المہدی ط دارالکتاب العربی۔ [2] ) اللباب فی علوم الکتاب: 11/335۔ [3] ) اللباب: 11/336۔ تفسیر الجامع لاحکام القرآن: 9/223. [4] ) التفسیر الکبیر: 7/62۔ ط دار احیاء التراث العربی۔