کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 207
عنہم ما یریدون وما أرسلوا بہ إلیہم۔)) [1] ’’یہ اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم میں سے ہے جو وہ اپنی مخلوق کے ساتھ کرتا ہے کہ وہ ان کی طرف انہی میں سے ان کی زبان میں رسول بھیجتا ہے تاکہ وہ ان سے اس بات کو سمجھ لیں جو وہ ارادہ رکھتے ہیں اور جو وہ دے کر ان کی طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘ امام المفسرین محمد بن جریر الطبری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’یقول تعالی ذکرہ: وما أرسلنا إلی أمۃ من الأمم، یا محمد، من قبلک ومن قبلِ قومک، رسولا إلا بلسان الأمۃ التي أرسلناہ إلیہا ولغتہم لِیُبَیِّنَ لَہُمْ یقول: لیفہمہم ما أرسلہ اللّٰہ بہ إلیہم من أمرہ ونَہیہ، لیُثْبت حجۃ اللّٰہ علیہم، ثم التوفیقُ والخذلانُ بیداللّٰہ۔‘‘ [2] ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) تجھ اور تیری قوم سے پہلے کسی بھی امت کی طرف کوئی رسول ہم نے نہیں بھیجا مگر اس امت کی زبان اور لغت میں جس کی طرف ہم نے رسول مبعوث کیا۔ ’’تاکہ وہ ان کے لیے کھول کھول کر بیان کر دے‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تاکہ اللہ نے رسول کو جو اوامر اور نواہی دے کر ان کی طرف بھیجا ہے وہ انہیں سمجھا دے تاکہ اللہ کی حجت ان پر ثابت ہو جائے، پھر توفیق اور رسوائی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ علامہ سیوطی رحمہ اللہ ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، اور ابن ابی حاتم علیہ السلام کے حوالے سے قتادہ رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں: ’’( وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ )قال: بلغۃ قومہ إن کان عربیا فعربیا، وإن کان عجمیا فعجمیا، وإن کان سریانیا فسریانیا لبین لہم الذی أرسل إلیہم لیتخذ بذلک الحجۃ علیہم۔‘‘ [3] ’’اور انہیں نہیں بھیجا ہم نے مگر اسی قوم کی زبان میں۔ اللہ نے فرمایا: اس قوم کی لغت میں اگر وہ عربی ہے تو ہم نے عربی رسول بھیجا، اگر وہ لغت عجمی ہے تو عجمی، اگر وہ سریانی ہے تو سریانی تاکہ وہ ان کی طرف بھیجی جانے والی چیز کو کھول کھول کر بیان کر دے تاکہ اس کے ذریعے اللہ ان پر [1] ) تفسیر ابن کثیر: 3/660۔ بتحقیق عبدالرزاق المہدی ط دارالکتاب العربی۔ [2] ) تفسیر الطبری: 13/592۔ بتحقیق الدکتور عبداللّٰہ بن عبدالمحسن الترکی۔ [3] ) الدرر المنثور فی التفسیر الماثور: 8/487-488۔ بتحقیق الدکتور عبداللّٰہ عبدالمحسن الترکی۔