کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 205
کے ساتھ لازم کر لیتا ہے تو وہ مسلمان ہے۔‘‘ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث یوں مروی ہے کہ وہ فرماتی ہیں: جس رات کی میری باری تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اوڑھ لی اور دونوں جوتے اتارے اور انہیں اپنے پاؤں کے پاس رکھ لیا اور اپنے بستر پر اپنے تہہ بند کا پلو بچھا دیا اور لپٹ گئے۔ جب تھوڑی ہی دیر گزری کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا کہ میں سو گئی ہوں آپ نے آہستہ سے اپنی چادر لی اور آہستہ سے جوتا پہنا اور دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے پھر دروازہ آہستہ سے بند کر دیا، میں نے اپنی چادر اپنے سر پر اوڑھی اور اپنا ازار پہن لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ بقیع میں آئے، کھڑے ہو گئے اور لمبا قیام کیا پھر تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو اٹھایا پھر آپ واپس لوٹے، میں بھی واپس لوٹی، آپ تیز چلے میں بھی تیز چلی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑے میں بھی دوڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو میں بھی پہنچ گئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سبقت لے گئی۔ میں گھر میں داخل ہوئی، میں ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے آئے۔ فرمایا: اے عائش! تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تیرا سانس پھول رہا ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ، کوئی کچھ نہیں۔ فرمایا: تم مجھے بتا دو، ورنہ مجھے باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا بتا دے گا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ پھر پورے قصے کی میں نے آپ کو خبر دی، فرمایا: تم وہ سایہ تھی جو میں اپنے آگے آگے دیکھ رہا تھا۔ میں نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پشت پر کچوکا مارا جس کی مجھے تکلیف ہوئی اور فرمایا: کیا تو سمجھتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تیرا حق دبا لے گا۔ کہنے لگیں: ’’مہما یکتم الناس یلعمہ اللّٰہ؟‘‘ ’’جب لوگ کچھ چھپا لیتے ہیں تو اللہ کو جانتا ہے؟‘‘ فرمایا: ہاں، جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے جس وقت تو نے دیکھا تو مجھے پکارا اور تجھ سے اسے چھپایا تو میں نے اس کی بات قبول کی اور تجھ سے چھپایا اور وہ تیرے پاس اس لیے نہیں آئے تھے کہ تو اپنے کپڑے اتار چکی تھی اور میں نے سمجھا کہ تو سو گئی ہے، سو میں نے تجھے جگانا پسند نہ کیا اور مجھے ڈر لاحق ہوا کہ تم گھبرا جاؤ گی۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: بلاشبہ تیرا رب تجھے حکم دیتا ہے کہ تو اہل بقیع والوں کے ہاں آئے اور ان کے لیے استغفار کرے، کہنے لگیں: یا رسول اللہ میں کس طرح کہوں؟ فرمایا: تم کہو: ((السلام علی اہل الدیار من المؤمنین والمسلمین ویرحم اللّٰہ المستقدمین منا والمستأخرین وإنا إن شاء اللّٰہ للاحقون۔)) [1] [1] ) مسند احمد: 6/221۔ ونسخۃ اخری: 43/43-45 (25855)، صحیح مسلم کتاب الجنائز باب ما یقول عند دخول القبور والدعاء لأہلہا: 103/974۔ سنن النسائی: (2037)۔ نسائی کبریٰ: (2164-7685-8912)۔ المصنف لعبد الرزاق: 3/570۔