کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 204
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ابو الحسن الاشعری کا آخری فیصلہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا آخری قول یہی تھا کہ وہ کسی مسلم کی تکفیر نہیں کرتے تھے جیسا کہ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ رأیت للأشعری کلمۃ أعجبتنی وہی ثابتۃ رواہا البیہقی سمعت أبا حازم العبدوی، سمعت زاہر بن أحمد السرخسی یقول: لما قرب حضور أجل أبی الحسن الأشعری فی داری ببغداد دعانی فأتیتہ۔ فقال: إشہد عليّ أنی لا أکفر أحداً من أہل القبلۃ لأن الکل یشیرون إلی معبود واحد و إنما ہذا کلمہ اختلاف العبارات: قلت: و بنحو ہذا أدین ، و کذا کان شیخنا ابن تیمیہ فی أواخر أیامہ یقول: أنا لا أکفر أحداً من الأمۃ و یقول: قال النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم : (( لا یحافظ علی الوضوء إلا مؤمن)) فمن لازم الصلوات بوضوئٍ فہو مسلم))۔‘‘ [1] ’’میں نے ابو الحسن الاشعری کا کلام دیکھا جس نے مجھے تعجب میں ڈال دیا اور وہ ثابت بھی ہے۔ اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابو حازم العبدوی سے سنا ہے ، انہوں نے کہا: میں نے زاہر بن احمد السرخسی سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے: جب میرے گھر میں بغداد کے اندر ابو الحسن الاشعری کی موت کا وقت قریب آگیا تو انہوں نے مجھے بلایا تو میں ان کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا: مجھ پر گواہ ہوجا کہ میں اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیرنہیں کرتا اس لیے کہ سب ایک ہی معبود کی طرف اشارہ کرتے ہیں یہ سارا عبادت کا اختلاف ہے۔ میں (ذہبی) کہتا ہوں: میں بھی اسے ہی اپناتا ہوں اور ہمارے شیخ امام ابن تیمیہ بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں اسی طرح کہتے تھے کہ اُمت میں سے میں کسی کو بھی کافر نہیں کہتا اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وضو پر صرف مومن ہی حفاظت کرتا ہے۔تو جو آدمی نمازوں کو وضو [1] ) سیر أعلام النبلاء : 15/88۔ ط: مؤسسۃ الرسالۃ۔جس حدیث کا ذکر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کہا ہے یہ مسند احمد: 37/60 (22378) 37/109 (22433)۔ شرح السنۃ (155)۔ مسند طیالسی (994)۔ تعظیم قدر الصلاۃ (168)۔ المستدرک للحاکم: 1/130۔ البیہقی : 1/82، 457۔ التمہید : 242/318۔ ابن ابی شیبہ : 1/6,5۔ المعجم الصغیر للطبرانی (1011,8) المعجم الأوسط لہ (7015)۔ ومسند الشامیین (1335)۔ المعجم الکبیر (1444)۔ مسند الدارمی (656)۔ ابن حبان (1037)۔ وغیرہا میں موجود ہے۔