کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 203
بذلک حتی یبین لہم ما جاء بہ الرسول مما یخالفہ۔)) [1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کے آئے اس کی معرفت کے بعد ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے فوت شدگان میں سے کسی کو بھی پکارنا مشروع نہیں رکھا، نہ ہی انبیاء و رسل علیہم السلام کو اور نہ ہی اولیائے کرام کو اور نہ ہی ان کے علاوہ دیگر اصحاب کو، نہ لفظ استغاثہ کے ساتھ اور نہ ہی اس کے علاوہ کے ساتھ، اور نہ ہی لفظ استعاذہ کے ساتھ اور نہ ہی اس کے علاوہ الفاظ کے ساتھ، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے میت کو سجدہ کرنا مشروع نہیں رکھا اور نہ ہی میت کی جانب رخ کر کے سجدہ کرنا، بلکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام امور سے منع کیا ہے اور یقینا یہ اس شرک میں سے ہے جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے لیکن جہالت کے غلبے اور آثار رسالت سے کم علمی کی وجہ سے متاخرین میں سے بہت سے لوگوں کی تکفیر ممکن نہیں یہاں تک کہ ان کے لیے کھل کر واضح ہو جائے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اس سے جو اس کے خلاف ہے۔‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: ’’کنت أقول للجہمیۃ من الحلولیۃ والنفاۃ الذین نفوا أن اللّٰہ تعالی فوق العرش لما وقعت محنتہم أنا لو وافقتکم کنت کافرا لأبي أعلم أن قولکم کفر وأنتم عندي لا تکفرون لأنکم جہال وکان ہذا خطابا لعلمائہم وقضاتہم وشیوخہم وأمرائہم۔)) [2] ’’میں حلولیہ میں سے جہمیہ اور وہ لوگ جو اللہ کے عرش پر ہونے کی نفی کرتے ہیں، سے کہتا ہوں اگر میں تمہاری موافقت کروں تو کافر ہو جاؤں گا اس لیے کہ میں جانتا ہوں تمہارا قول کفر ہے اور تم میرے نزدیک کافر نہیں ہو گے، اس لیے کہ تم جہال ہو اور وہ خطاب ان کے علمائ، قضاۃ، شیوخ اور امراء سے تھا۔‘‘ [1] ) کتاب الاستغاثۃ فی الرد علی البکری، ص: 411۔ ط مکتبہ دارالمنہاج، و 2/629۔630۔ ط دارالوطن، و 2/731۔ ط غرباء اثریہ، مصباح الظلام، ص: 310۔311، 304۔ ط وزار الشؤون الاسلامیہ والاوقاف السعودیہ۔ [2] ) الاستغاثۃ فی الرد علی البکری، ص: 253۔ ط دارالمنہاج، و 1/383۔384۔ ط دارالوطن۔