کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 202
شیخ نے، جس چیز پر اس کا کلام دلالت کرتا ہے اور اس کا نظم و خطاب تقاضا کرتا ہے اس پر کلام کیا ہے۔‘‘ شیخ عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب سے قبور پر بنے ہوئے قبوں کے بارے میں سوال کیا گیا: کیا یہ قبے ان کے بانی کے کفر پر دلالت کرتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا: ’’ہذا یحتاج إلی تفصیل فان کان البانی قد بلغہ ہدی الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم فی ہدم البناء علیہا ونہیہ عن ذلک وعاند وعصی أو منع من اراد ہدمہا من ذلک فذلک من علامۃ الکفر وأما من فعل ذلک جہلا منہ بما بعث اللّٰہ بہ رسولہ صلی اللّٰه علیہ وسلم فہذا لا یکون علامۃ علی کفر وإنما یکون علامۃ علی جہلۃ وبدعتہ واعراضہ عن البحث عما أمراللّٰہ بہ ورسولہ فی القبور۔‘‘ [1] ’’یہ بات تفصیل کی محتاج ہے، اگر قبروں پر قبے بنانے والے کو ان پر عمارات گرانے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی اور اس سے ممانعت پہنچی ہے اور اس نے عناد و سرکشی اختیار کی اور نافرمانی کی یا جس نے ان قبوں کو گرانے کا ارادہ کیا تو اس نے اسے منع کیا تو یہ کفر کی علامت ہے اور جس شخص نے یہ کام اس چیز سے جہالت کی بناء پر کیا جس کے ساتھ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تو یہ اس کے کفر پر علامت نہیں ہے اور یہ صرف اس کی جہالت، بدعت اور قبروں کے متعلق اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا ہے اس سے بحث کرنے سے گریز کی علامت ہے۔‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’فإنا بعد معرفۃ ما جاء بہ الرسول نعلم بالضرورۃ أنہ لم یشرع لأمتہ أن یدعو أحدا من الأموات لا الأنبیاء ولا الصالحین ولا غیرہم، لا بلفظ الاستغاثۃ ولا بغیرہا، ولا بلفظ الاستعاذۃ ولا بغیرہا، کما أنہ لم یشرع لأمتہ السجود لمیت ولا إلی میت ونحو ذالک، بل نعلم أنہ نہی عن کل ہذہ الأمور، وأن ذلک من الشرک الذي حرمہ اللّٰہ تعالی ورسولہ۔ لکن لغلبۃ الجہل وقلۃ العلم بآثار الرسالۃ في کثیر من المتأخرین لم یمکن تکفیرہم [1] ) مجموعہ الرسائل والمسائل النجدید: 1/246۔