کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 201
قبوں اور بتوں کی عبادت کرتے ہیں جب ان کو تعلیم دینے والا اور حجت شرعی پہچانے والا میسر نہ ہو تو وہ حرمین پر بلاد کفر کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں شیخ رحمہ اللہ نبوی منہج اور جادہ مستقیم پر تھے وہ ہر مقام کو جو اس کے اجمال و تفصیل سے مناسب ہوتا وہی حق دیتے تھے۔‘‘ شیخ عبداللطیف بن حسن آل الشیخ مزید لکھتے ہیں: ’’والشیخ محمد رحمہ اللّٰه علیہ من أعظم الناس توقفًا وإحجامًا عن إطلاق الکفر حتی أنہ لم یجزم بتکفیرہ الجاہل الذی یدعو غیر اللّٰہ من أہل القبور أو غیرہم إذا لم یتیسر لہ من ینصحہ ویبلغہ الحجۃ التي یکفر تارکہا۔‘‘[1] ’’شیخ محمد بن عبدالوہاب کفر کا اطلاق کرنے سے سب لوگوں سے زیادہ توقف کرنے والے اور باز رہنے والے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس جاہل پر بھی تکفیر کا بالجزم حکم نہیں لگایا جو اللہ کے علاوہ قبروں والوں کو پکارتا ہے جب اسے کوئی نصیحت کرنے والا اور وہ حجت پہنچانے والا جس کے ترک پر آدمی کافر ہو جاتا ہے، میسر نہ ہو۔‘‘ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: ’’وشیخنا رحمہ اللّٰه علیہ لم یکفر أحداً ابتداء بمجرد فعلہ وشرکہ بل یتوقف في ذلک حتی یعلم قیام الحجۃ التي یکفر تارکہا وہذا صریح في کلامہ في غیر موضع ورسالۃ في ذلک معروفۃ۔‘‘ [2] ’’اور ہمارے شیخ ابتداء کسی کے محض فعل اور شرک کی وجہ سے اسے کافر قرار نہیں دیتے بلکہ اتنی دیر تک اس میں توقف کرتے ہیں جب تک وہ قیام حجت کو جان نہیں لیتے جس کا تارک کافر ہو جاتا ہے یہ ان کے کلام میں کئی مقامات پر بڑا واضح ہے اور اس میں ان کے رسائل معروف ہیں۔‘‘ ایک جگہ پر لکھتے ہیں: ’’وشیخنا لم یکفر الأمۃ وعلماء ہا حتی صاحب البردۃ، وإنما تکلم فیما دل علیہ کلامہ واقتضاہ نظمہ وخطابہ۔‘‘ [3] ’’اور ہمارے شیخ نے امت اور اس کے علماء کی تکفیر نہیں کی حتیٰ کہ صاحب بردۃ کو بھی کافر نہیں کہا [1] ) منہاج التاسیس والتقدیس، ص: 98۔99۔ [2] ) مصباح الظلام، ص: 516۔ [3] ) مصباح الظلام، ص: 461۔