کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 20
کی طرف ہے جو تکفیر کو واجب کرتی ہے تو اسے مفتی کا فتویٰ نفع نہیں دے گا اور اسے توبہ، اپنے قول سے رجوع اور بیوی کے ساتھ تجدید نکاح کا حکم دیا جائے گا۔‘‘[1] اگر کسی میں سو وجوہاتِ کفر ہوں اور ایک وجہ ایمان ہو پھر؟ مفتی محمد عبدہٗ مصری لکھتے ہیں: ’’إذا صدر قول من قائل یحتمل الکفر من مائۃ وجہ و یحتمل الإیمان من وجہ واحد حمل علی الإیمان و لا یجوز حملہ علی الکفر.‘‘[2] ’’جب کسی کہنے والے سے ایسا قول صادر ہو جائے جو سو (100) وجوہاتِ کفر کا احتمال رکھتا ہو اور ایک وجہ سے ایمان کا احتمال رکھتا ہو، تو اسے ایمان پر محمول کیا جائے گا اسے کفر پر محمول کرنا جائز نہیں۔‘‘ ہم نے اختصار کے ساتھ ائمہ دین اور فقہائے ملت کے چند اقوال ذکر کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تکفیر کے مسئلہ پر کس قدر احتیاط اور تورّع (پرہیز) سے کام لیتے تھے۔ کسی مسلم کی تکفیر کرنے میں جلد بازی اور تسرع سے اجتناب کرتے تھے۔ لیکن آج اس امت میں پیدا ہونے والے جہلاء اور عوام کالأنعام کس قدر جرأت اور دیدہ دلیری کے ساتھ بلاد المسلمین کے حکام، افواج، سیکورٹی فورسز، اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز، ججز، وکلاء اور حکومت سے تعلق رکھنے والے ہر ادارے اور علماء و زعماء کی تکفیر کر کے قتل و غارت گری اور کشت و خون کے دریا بہا رہے ہیں۔ ہم نے کافی عرصہ سے تکفیر کے اس فتنہ کے خلاف دعوت و اصلاح اور وعظ و ارشاد کا اہتمام کر رکھا ہے اور جماعۃ الدعوۃ اللہ کے فضل و احسان کے ساتھ شب و روز محنت ہائے شاقہ برداشت کر کے امت کی فوز و فلاح اور رشد و ہدایت کی طرف گامزن ہے اور امت مسلمہ کو کتاب و سنت کے عظیم پلیٹ فارم پر اتفاق و اتحاد کا درس دے رہی ہے، تاکہ ہم سب مل کر اسلام اور اہل اسلام کے دشمن کو پہچانیں اور جو اعدائے اسلام (اسلام کے دشمنوں) کی سرگرمیاں بلادِ اسلام کے خلاف جاری ہیں ان کا قلع قمع کریں۔ جب یہود و نصاریٰ، کفار و ہنود میدان معرکہ میں ہزیمت خوردہ ہوتے ہیں تو پھر وہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بُنتے ہیں اور فکری انتشار پھیلانے اور مسلمانوں میں باہمی افتراق پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہو جاتے ہیں۔ بعض کم عمر، کم فہم اور کم عقل لوگ جب ان کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں تو وہ انہیں دنیا کی [1] ) شرح الامام علی القاری علی کتاب الفاظ الکفر، ص: 230، ط: دار الفضیلۃ بالریاض، و ص: 136، ط: دار العلا مصر. [2] ) @ الأعمال الکاملۃ: 3/283 بتحقیق دکتور محمد عمار، ط: بیروت.