کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 198
’’وکذلک الأمر فی کل من أنکر شیئا مما أجمعت الأمۃ علیہ من أمور الدین اذا کان علمہ منتشرا کالصلوات الخمس وصوم شہر رمضان والاغتسال من الجنابۃ وتحریم الزنی والخمر ونکاح ذوات المحارم ونحوہا من الٔحکام الا أن یکون رجلا حدیث عہد بالاسلام ولا یعرف حدودہ فإنہ اذا أنکر شیئا منہا جہلا بہ لم یکفر۔‘‘[1] ’’اسی طرح معاملہ ہے ہر اس شخص کا جس نے امور دین میں سے امت کے اجماعی اور اتفاقی کسی امر کا انکار کیا جب اس کا علم منتشر ہو جیسے پانچ نمازیں، رمضان کے روزے، غسل جنابت، زنا، شراب، محرمات ابدیہ کے ساتھ جیسے احکام کی حرمت کے انکار پر کافرہو گا۔ ہاں اگر وہ نیا نیا اسلام کی طرف آیا ہو اور اس کی حدود کو پہچانتا نہ ہو جب ان میں سے کسی چیز کا انکارجہالت کی وجہ سے کرے تو وہ کافرنہیں ہو گا۔‘‘ امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اختلف العلماء فی معناہ، فقال منہم قائلون: ہذا رجل جھل بعض صفات اللّٰہ عزوجل وہی القدرۃ، فلم یعلم أن اللّٰہ علی کل ما یشاء قدیر، قالوا: ومن جھل صفۃ من صفات اللّٰہ عزوجل وآمن بسائر صفاتہ وعرفہا لم یکن بجھلہ بعض صفات اللّٰہ کافرا، قالوا: وإنما الکافر من عاند الحق لا من جھلہ، وہذا قول المقتدمین من العلماء ومن سلک سبیلہم من المتأخرین۔‘‘[2] ’’اس حدیث کے مفہوم میں علماء نے اختلاف کیا ہے، ان میں سے بعض نے کہا ہے: یہ آدمی اللہ کی بعض صفات سے جاہل تھا اور وہ صفت اللہ کی قدرت ہے اسے علم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اس پر کمال قدرت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا: جو کوئی اللہ کی صفات میں سے کسی صفت سے جاہل ہو اور باقی تمام صفات پر ایمان رکھتا ہو اور انہیںپہچانتا ہو تو بعض صفات سے جہالت کی وجہ سے کافر نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا: کافر تو صرف وہ ہے جس نے حق سے عناد اور دشمنی رکھی، اپنی جہالت کی وجہ سے نہیں۔ یہ متقدمین کا قول ہے اورمتاخرین میں سے [1] ) شرح صحیح مسلم للنوی: 1/205۔ [2] ) التمہید لابن عبدالبر: 18/42۔