کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 194
وجہ سے اسے معاف کر دیا۔‘‘ امام ابن حزم رحمہ اللہ مزید لکھتے ہیں: ’’والحق ہو أن کل من ثبت لہ عقد الإسلام فإنہ لا یزول عنہ إلا بنفی أو إجماع وأما بالدعوی والافتراء فلا، فوجب أن لا یکفر أحد بقول قالہ إلا بأن یخالف ما قد صح عندہ أن اللّٰہ تعالی قالہ أو أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم قالہ فستجیز خلاف اللّٰہ تعالی وخلاف رسول علیہ الصلاۃ والسلام وسواء کان ذلک فی عقد دین أو فی نحلۃ أو فی فتیا وسواء کان ما صح من ذلک عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم منقولاً نقل إجماع تواتر أو نقل آحاد۔‘‘[1] ’’حق بات یہ ہے کہ جس کا معتقد اسلام ہونا ثابت ہو جائے تو وہ اس کے بغیر نفی یا اجماع کے زائل ہو گا مگر دعویٰ اور افتراء کے ساتھ اس کا عقد اسلام زائل نہ ہو گا لہٰذا واجب ہے کہ کسی شخص کی اس کے قول کی وجہ سے تکفیر نہ کی جائے سوائے اس کے کہ وہ اس قول سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان اقوال کی مخالفت کرے جو اس کے نزدیک صحیح ثابت ہوں اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کو جائز سمجھے خواہ یہ مخالفت دینی عقیدے میں ہو یا ملت میں یا فتوے میں اور خواہ اس حدیث میں ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجماع و تواتر سے منقول ہو یا اخبار آحاد سے۔‘‘ ایک اور مقام پر راقم ہیں: ’’وأما ما لم تقم الحجۃ علی المخالف للحق فی أی شیء کان فلا یکون کافراً إلا أن یأتی نص بتکفیرہ۔‘‘[2] ’’بہر حال حق کے مخالف پر خواہ وہ کسی بھی چیز میں ہو حجت قائم نہ ہوئی تو وہ کافرنہ ہو گا الا یہ کہ اس کی تکفیر کے متعلق کوئی نص واردہو۔‘‘ پھر مزید لکھتے ہیں: ’’فإن قال قائل فما تقولون فیمن قال أنا أشہد أن محمداً رسول اللّٰہ ولا أدری أہو قریش أم تمیمی أم فارسی ولا ہل کان بالحجاز أو بخرسان ولا أدری أحی ہو أو میت ولا أدری لعلہ ہذا الرجل الحاضر أم غیرہ قیل لہ إن کان جاہلاً لا علم عندہ بشیء من الأخبار والسیر لم یضرہ ذلک شیئًا ووجب [1] ) الفصل فی الملل والاہواء والنحل لابن حزم: 2/268۔ [2] ) الفصل: 2/269۔