کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 192
شان میں مبالغہ آمیزی کرتے ہو آپ کے بارے میں دعویٰ کیا دیا کہ آپ کل آنے والے دن کی باتیں جانتے ہیں، اللہ کے سوا کسی کے بارے علم غیب کا دعویٰ کرناکفر ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جہالت کی وجہ سے اس کی تکفیر نہیں کی صرف ممانعت پر ہی اکتفاء کر لیا۔ملا علی قاری رقمطراز ہیں: ’’ثم إعلم أن الأنبیاء لم یعلموا المغیبات من الأشیاء إلا ما أعلمہم اللّٰہ تعالی أحیانا وذکر الحنفیۃ تصریحا بالتکفیر بإعتقاد أن النبی علیہ السلام یعلم الغیب لمعارضۃ قولہ تعالی: (قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ )(النمل: 65) کذا فی المائدۃ۔‘‘[1] ’’پھر جان لیجیے کہ انبیائ علیہم السلام غیب کی باتیں نہیں جانتے مگر جو کبھی کبھی اللہ تعالیٰ انہیں بتا دے اور علمائے اخناف نے ایسے عقیدے کی صراحتاً تکفیر کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے ہیں اس لیے کہ یہ اللہ کے اس قول کے خلاف ہے: ’’کہہ دیجیے، آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔‘‘ لہٰذا اگر کوئی شخص کسی فعل یا قول کا مرتکب ہوتا ہے اور وہ قول و فعل کفریہ ہے تومحض کفریہ قول و فعل کی بناء پر اسے کافر نہیں کہیں گے جب تک اس میں تکفیر کی شروط پائی نہیں جاتیں اور موانع تکفیر کی نفی نہیں ہوجاتی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’للّٰہ أسماء وصفات جاء بہا کتابہ، وأخبر بہا نبیہ صلی اللّٰه علیہ وسلم أمتہ، لا یسع أحدا قامت علیہ الحجۃ ردھ، لان القرآن نزل بہا، وصح عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم القول بہا، فإن خالف ذلک بعد ثبوت الحجۃ علیہ، فہو کافر، فأما قبل ثبوت الحجۃ، فمعذور بالجھل، لان علم ذلک لا یدرک بالعقل ولا بالرویۃ والفکر ولا نکفر بالجھل بہا أحدا إلا بعد انتہاء الخبر إلیہ بہا، ونثبت ہذہ الصفات وننفی عنہا التشبیہ کما نفاہ عن نفسہ، فقال( لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ) (الشوریٰ: 11)۔‘‘ [2] [1] ) شرح الفقہ الاکبر ص: 185۔ ط قدیم۔ [2] ) سیر اعلام النبلاء للذہبی: 10/79۔80۔ الاربعین فی صفات رب العالمین لہ ایضًا (86) ص: 84۔ ط مکتبۃ العلوم والحکم، المدینۃ المنور، العلو للعلی العظیم: (410) 2/1062۔ ط دارالوطن، مختصر العلو بتحقیق الامام البانی: (202)، ص: 177۔ طبقات الحنابلۃ للقاضی ابی الحسین محمد بن ابی یعلی: 1/284،283۔ ط دارالمعرفۃ بیروت، وفی نسخۃ: 2/270،268۔ ط مکتبۃ العبیکان۔