کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 191
تختص باللّٰہ تعالی کما قال تعالی: ) (قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ )(النمل: 65) وقولہ لنبیہ:( قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ) (الاعراف: 188) وسائر ما کان النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم یخبر بہ من الغیوب بإعلام اللّٰہ تعالی إیاہ لا أنہ یستقل بعلم ذلک کما قال تعالی: (عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا (26) إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ )(الجن: 26،27)۔‘‘ [1] ’’اس لڑکی نے آپ کی مدح سرائی میں مبالغہ کرتے ہوئے جو بیان کیا اس پر آپ نے انکار اس لیے کیا کہ اس میں علم غیب کی نسبت مطلق طور پر آپ کی طرف کی گئی، حالانکہ یہ صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے جیسا کہ اس نے فرمایا: ’’کہہ دو آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی سے فرمان: ’’کہہ دو میں اپنے نفس کے لیے کسی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں ضرور بھلائیوں میں سے بہت زیادہ حاصل کر لیتا۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی بھی غیب کی خبریں دی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے ہی دی ہیں آپ خود مستقل طور پر علم غیب نہیں رکھتے، جیسا کہ اللہ نے فرمایا: ’’وہ ہر غیب جاننے والا ہے سو وہ اپنے غیب پرکسی کو بھی اطلاع نہیں دیتا مگر کوئی رسول جسے وہ پسند کرے۔‘‘ علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’دعی أی اترکی ہذا القول لأن مفاتح الغیب عنداللّٰہ لا یعلمہا إلا ہو۔‘‘[2] ’’یعنی اس قول کو تو چھوڑ دے اس لیے کہ غیب کے خزانے اللہ کے پاس ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔‘‘ علامہ ابن الملقن رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’دعی ہذا ’’أی أن الغیب لا یعلمہ إلا اللّٰہ۔‘‘[3] ’’یہ بات کہنا چھوڑ دے، کیونکہ غیب اللہ کے سواکوئی نہیں جانتا۔‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک لڑکی نے اپنے آبائو اجداد کی مدح سرائی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی [1] ) فتح الباری: 11/475۔ ط دار طیبۃ۔ [2] ) عمدۃ القاری: 16/400۔ ط المکتبۃ التوفیقیۃ۔ [3] ) التوضیح: 24/452۔ ط دارالفلاح، نیز دیکھیں: نعم الباری فی شرح صحیح البخاری: 9/576۔ از غلام رسول سعیدی، شرح صحیح البخاری للکرمانی: 19/86۔