کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 19
سنت و حدیث کی طرف نسبت رکھنے والے بعض لوگ پھنس چکے ہیں۔‘‘ علم میں ناپختہ لوگوں کا تکفیر کرنا علامہ ابن الوزیر الیمانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: ’’فمن العجب تکفیر کثیر ممن لم یرسخ في العلم لکثیر من العلماء و ما دروا حقیقۃ مذاہبہم و ہذہ ہذہ و ما یعقلہا إلا العالمون۔‘‘[1] تعجب ہے بہت سارے وہ لوگ جنہیں علم میں رسوخ نہیں ہے وہ کثیر علماء کی تکفیر کرتے ہیں اور وہ ان کے مذاہب کی حقیقت نہیں جانتے اور ان مباحث کو علماء کے علاوہ کوئی نہیں سمجھتا۔‘‘ علماء کسی کی تکفیر کرنے سے قبل بارہا دفعہ غور و فکر کرتے ہیں بلکہ جس قدر ممکن ہو کسی مسلم سے سرزد ہو جانے والے کفریہ قول کی توجیہات کرتے ہیں، تاکہ وہ شخص مسلم برادری سے خارج نہ ہو اور اس کی گمراہی کی اصلاح ہو۔ اگر کسی میں کئی وجوہاتِ کفر ہوں اور ایک مانع کفر ہو ملا علی قاری حنفی علامہ بدر الرشید الحنفی کی کتاب الفاظ الکفر کی شرح میں نقل کرتے ہیں: ’’و قد نقل صاحب المضمرات عن الذخیرۃ أنہ إذا کان في المسألۃ وجوہ توجب التکفیر و وجہ واحد یمنع التکفیر فعلی المفتي ان یمیل إلی الذي یمنع التکفیر تحسینًا للظن بالمسلم۔‘‘[2] ’’بلاشبہ صاحب المضمرات (یوسف بن عمر الحنفی المتوفی 832ھ) نے ’’الذخیرۃ‘‘ سے نقل کیا ہے کہ جب ایک مسئلہ میں کئی ایسی وجوہ پائی جائیں جو تکفیر کو واجب کرتی ہوں اور ایک وجہ مانع تکفیر ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ وہ مسلم پر حسن ظن رکھتے ہوئے اس وجہ کی طرف مائل ہو جو مانع تکفیر ہو۔‘‘ پھر اس کے بعد لکھتے ہیں: ’’اگر قائل کی نیت اس وجہ کی طرف ہے جو مانع تکفیر ہے تو وہ مسلم ہے اور اگر اس کی نیت اس وجہ [1] ) ایثار الحق علی الخلق، ص: 408. [2] ) شرح الإمام علی القاری علی کتاب الفاظ الکفر، ص: 230، ط: دار الفضیلۃ بالریاض، و ص: 136، ط: دار العلا مصر۔