کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 189
’’وجزائر البحر المقطعۃ ممن لم تبلغہ دعوۃ الإسلام ولا أمر النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم أن الحرج عنہ فی عدم الإیمان بہ ساقط لقولہ: ((لا یسمع بی))۔‘‘ [1] ’’اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ جو آدمی زمین کے اطراف و جوانب، اور سمندری الگ الگ جزیروں میں رہتا ہے اور اسے اسلام کی دعوت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امر نہیں پہنچا تو آپ پر ایمان نہ لانے کا حرج و گناہ اس لیے ساقط ہو جاتا ہے کہ آپ کے اس فرمان ’’جو میرے بارے میں نہیں سنتا‘‘ کی وجہ سے۔‘‘ امام ابو العباس القرطبی راقم ہیں: ’’وفیہ دلیل علی أنّ مَن لم تبلغہ دعوۃُ الرسول صلی اللّٰه علیہ وسلم ولا أمرہ، لا عقاب علیہ ولا مؤاخذۃ، وہذا کما قال تعالی: {وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا} (الاسرائ: 15) ومن لم تبلغہ دعوۃ الرسول ولا معجزتہ، فکأنّہ لم یُبعث إلیہ رسول۔‘‘[2] ’’اس حدیث میں دلیل ہے کہ جس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور امرنہیں پہنچا اس پرکوئی عذاب و مؤاخذہ نہیں ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا: اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں۔‘‘ اور جس کو رسول کی دعوت اور معجزہ پہنچا ہی نہیں گویا کہ اس کی طرف کوئی رسول نہیں بھیجا گیا۔ امام نووی رقمطراز ہیں: ’’ففقیہ نسخ الملل کلہا برسالۃ نبینا صلی اللّٰه علیہ وسلم وفی مفہومہ دلالۃ علی أن من لم تبلغہ دعوۃ الإسلام فہو معذور وہذا جار علی ما تقدم فی الأصول أنہ لا حکم قبل ورود الشرع علی الصحیح واللّٰہ أعلم۔‘‘[3] ’’اس حدیث میں دلیل ہے کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے ساتھ تمام سابقہ ملل و ادیان منسوخ ہو گئے اور اس کے مفہوم میں اس بات پر دلالت ہے کہ جسے اسلام کی دعوت نہیں پہنچی وہ معذور ہے کیونکہ صحیح مذہب کی رو سے شریعت کے ورود کی رو سے قبل کوئی حکم لاگو نہیں ہو گا۔‘‘ [1] ) إکمال المعلم بفوائد مسلم: 1/468۔ ط دارالوفائ۔ [2] ) المفہم لما اشکل من تلخیص کتااب مسلم: 1/368۔ ط دار ابن کثیر بیروت۔ [3] ) شرح صحیح مسلم: 2/162۔ ط دارالکتب العلمیۃ بیروت۔