کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 187
وشیوخہم وأمرائہم۔)) [1] ’’میں حلولیہ میں سے جہمیہ اور وہ لوگ جو اللہ کے عرش پر ہونے کی نفی کرتے ہیں، سے کہتا ہوں اگر میں تمہاری موافقت کروں تو کافر ہو جاؤں گا اس لیے کہ میں جانتا ہوں تمہارا قول کفر ہے اور تم میرے نزدیک کافر نہیں ہو گے، اس لیے کہ تم جہال ہو اور وہ خطاب ان کے علمائ، قضاۃ، شیوخ اور امراء سے تھا۔‘‘ امام ذہبی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: ’’انہوں نے ایک دفعہ سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 93 سے استدلال اور تاویل کرتے ہوئے شراب پی لی تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر حد جاری کی اور انہیں بحرین کی ذمہ داری سے معزول کر دیا تھا۔‘‘[2] اس کی مثالیں حیات طیبہ سے بھی ملتی ہیں جیساکہ مختلف احادیث میں ملتا ہے کہ: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرنے کی اجازت طلب کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تکفیر نہ کی بلکہ ان کو سمجھایا کہ سجدہ صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے، غیر اللہ کے لیے سجدہ جائز نہیں ہے۔ ’’لما قدم معاذ من الشام سجد النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم قال ما ہذا یا معاذ؟ قال أتیت الشام فوافقتہم یسجدون لأساقفتہم وبطارقتہم فوددت فی نفسی أن نفعل ذلک بک فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم : ((فلا تفعلوا فإنی لو کنت آمرا أحد أن یسجد لغیر [1] ) الاستغاثۃ فی الرد علی البکری، ص: 253۔ ط دارالمنہاج، و 1/383۔384۔ ط دارالوطن۔ [2] ) ایوب سختیانی کہتے ہیں: ان کے سوا کسی بدری صحابی کو حد نہیں لگی (سیر اعلام النبلائ: 1/162۔ عبدالرزاق: (17075)۔ الاستیعاب: 9/150۔ الاصابۃ: 5/324) لیکن علامہ ابن اثیر جزری کہتے ہیں: ’’قد حد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نعیمان فی الخمر وہو بدری وہو مذکور فی بابہ فلا حجۃ فی قول أیوب واللّٰہ تعالی أعلم‘‘ (اسد الغابۃ: 4/377) اسی طرح ابو جندل رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ ایک جماعت نے شام میں شراب کو حلال جانتے ہوئے پیا، اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے: لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَِعمُوْا إِذَا مَا اتَّقُوْا وَآمَنُوْا۔‘‘ کوئی نہیں مومنین پر کہ وہ کچھ کھائیں پئیں، تو ان کی تکفیر نہ کی گئی تھی بلکہ شراب کی حرمت سے واقف کروایا اور انہوں نے توبہ کی اور پھر ان پر حد جاری کی گئی۔ (عبدالرزاق: (17078) 9/245،244۔ الاستیعاب لابن عبدالبر: 4/189،188۔ اسد الغابۃ: 6/54۔ لیکن اس کی سند میں ابن جریج نے بیان نہیں کیا کہ یہ خبر انہوں نے کس سے سنی ہے۔ سنن ابن ماجہ: کتاب النکاح: (1853)۔ السنن الکبری للبیہقی: 7/292۔ صحیح ابن حبان: (1290 موارد الظمآن)۔ مسند احمد: (19403) 32/145۔ المسند الشاشی: (1332) 3/213۔ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: (1203)۔