کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 186
(لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا )(المائدۃ: 93) ’’ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے، جب کہ وہ متقی بنے اور ایمان لائے۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے تاویل میں غلطی اور خطا کی ہے، بلاشبہ جب تم نے تقویٰ اختیار کیا تو جن جن اشیاء کو اللہ نے تم پر حرام کیا ہے ان سے اجتناب کر۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: قدامہ کو کوڑے لگانے کے بارے میں تم کیا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: جب تک وہ مریض ہے ہم اسے کوڑے لگانا صحیح نہیں سمجھتے۔ پھر کچھ دن عمر رضی اللہ عنہ اس کے متعلق خاموش رہے، ایک دم صبح اس حالت میں کی کہ انہوں نے کوڑے لگانے کا عزم کر لیا، اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے قدامہ کے کوڑوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: جب تک وہ ضعیف و ناتواں ہے ہم نہیں سمجھتے کہ آپ اسے کوڑے ماریں۔ عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس کا کوڑے کے نیچے رہ کر اللہ سے ملنا مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ وہ اپنے رب سے ملے اور یہ کوڑے لگانا میری گردن پر ہوں۔ میرے پاس کوئی مکمل کوڑا لائو، تو قدامہ کو کوڑے لگانے کا حکم دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ قدامہ رضی اللہ عنہ سے ناراض ہو گئے اور اسے چھوڑ دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے حج کیا اور قدامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے جب دونوں حج سے واپس لوٹے تو عمر رضی اللہ عنہ سُقیا اترے اور سو گئے پھر نیند سے بیدار ہوئے تو فرمایا: قدامہ کو میرے پاس جلدی لائو، اللہ کی قسم! میں نے خواب میں ایک آنے والے کو دیکھا، اس نے کہا: قدامہ سے صلح کر وہ تیرا بھائی ہے، میرے پاس اسے جلدی لائو۔ جب وہ انہیں لینے گئے تو قدامہ رضی اللہ عنہ نے آنے سے انکار کر دیا،عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر وہ آنے سے انکاری ہو تو میرے پاس کھینچ کر لے آئو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بات کی اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا مانگی یہ ان دونوں کی پہلی صلح تھی۔[1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں: ’’کنت أقول للجہمیۃ من الحلولیۃ والنفاۃ الذین نفوا أن اللّٰہ تعالی فوق العرش لما وقعت محنتہم أنا لو وافقتکم کنت کافرا لأبي أعلم أن قولکم کفر وأنتم عندي لا تکفرون لأنکم جہال وکان ہذا خطابا لعلمائہم وقضاتہم [1] ) المصنف لعبد الرزاق: (17076) 9/240،243۔ باب من حد من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، السنن الکبری للبیہقی: 8/316۔ الاصابۃ: 5/323،324۔ الاستیعاب: 3/340،341۔ اسد الغابۃ: 4/376۔ العقد الثمین: 7/72،73۔