کتاب: مسئلہ تکفیر اور اس کے اصول و ضوابط - صفحہ 185
خدوخال میں موجود ہے تو انکار کرنے والا کافر ہو گا۔‘‘[1] ذخیرہ روایات سے علم ہوتا ہے کہ قدامہ بن مظعون نے شراب کو حلال جانتے ہوئے پیا توعمر رضی اللہ عنہ نے ان پر حد جاری کی اور ان کی تکفیر نہ کی۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’مجھے عبداللہ بن عامربن ربیعہ نے خبر دی ان کے باپ بدر میں موجود تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بحرین کا عامل مقرر کیا۔ وہ سیدہ حفصہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کے ماموں تھے۔ بحرین سے عبدالقیس قبیلے کے سردار جارود عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو کہا: اے امیر المومنین! بلاشبہ قدامہ نے شراب پی ہے اور وہ سکر اور نشے کی حالت میں ہو گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان پر اللہ کی حدود میں سے حد جاری ہوتی ہے مجھ پر لازم تھا کہ میں یہ خبر آپ تک پہنچا دوں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرے ساتھ گواہ کون ہے؟ کہا: ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے کہا: میں کس چیز کے ساتھ گواہی دوں، میں نے اسے شراب پیتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن میں اسے نشے کی حالت میں دیکھا ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے گواہی میں غلو اور تکلف کیاہے پھر عمر رضی اللہ عنہ نے قدامہ کی طرف خط بھیجا کہ وہ بحرین سے ان کے ہاں آئیں۔ جاردو نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اس پر اللہ کی کتاب قائم کریں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تو مقابل ہے یا گواہ؟ اس نے کہا: بلکہ میں تو گواہ ہوں۔ فرمایا: تونے گواہی کا حق ادا کر دیا۔ جاردو خاموش ہو گیا یہاں تک کہ صبح سویرے عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں آیا پھر کہا: اس پر اللہ کی حد قائم کرو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو تجھے مقابل اورمخالف ہی سمجھتا ہوں اور تیرے پاس ایک آدمی کے سوا کوئی گواہی نہیں، جارودکہنے لگے: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتاہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو اپنی زبان کو لگام دے ورنہ میں تیرے ساتھ بہت برا سلوک کروں گا۔ جارود کہنے لگا: بہرحال اللہ کی قسم کیا یہ حق نہیں ہے کہ تیرے چچا کے بیٹے نے شراب پی ہے اور تو میرے ساتھ برا سلوک کر رہا ہے۔ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تمہیں ہماری گواہی میں شک ہے تو ولید کی بیٹی کو پیغام بھیج اور اس سے پوچھ وہ قدامہ بن مظعون کی بیوی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ہند بنت الولید کی طرف پیغام بھیجا اور اسے قسم دی، اس نے اپنے شوہر کے خلاف گواہی دی، عمر رضی اللہ عنہ نے قدامہ رضی اللہ عنہ سے کہا: بلاشبہ میں تجھ پر حد لگائوں گا۔ قدامہ کہنے لگے: اگر میں نے پی ہے جیسا کہ وہ کہتے ہیں تمہارے لیے مجھے کوڑے لگانا صحیح نہیں ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: وہ کیوں؟ قدامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [1] ) المغنی لابن قدامہ: 10/85،86۔